.

ایران نے خلیجِ عرب میں تیل کی اسمگلنگ پرغیرملکی جہاز پکڑ لیا،ملائشیا کا عملہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے خلیج عرب میں جزیرے ابو موسیٰ کے نزدیک ایک غیر ملکی تیل بردار جہاز کو ایندھن کی اسمگلنگ کے الزام میں پکڑ لیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے سوموار کو اس جہاز کو پکڑنے کی اطلاع دی ہے۔ اس علاقے میں پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل علی اوزمئی نے کہا ہے کہ اس پر ملائشیا سے تعلق رکھنے والےعملہ کے سولہ ارکان سوار تھے اور انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ یہ چھٹا جہاز ہے جس کو تیل کی اسمگلنگ کے الزام میں تحویل میں لیا گیا ہے۔‘‘

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے اس بے نامی جہاز پر لدا ہوا تیرہ لاکھ لٹر تیل ضبط کرلیا ہے۔اس جہاز کو جزیرے ابوموسیٰ سے پندرہ ناٹیکل میل دور تحویل میں لیا گیا ہے۔

قبل ازیں ستمبر میں ایران نے آبنائے ہُرمز میں ایک کشتی کو ایندھن کی اسمگلنگ کے الزام میں پکڑ لیا تھا اور اس کے عملہ کے 12 فلپائنی ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے 14 جولائی کو بھی خلیج کے پانیوں میں ایک ’’غیرملکی ٹینکر‘‘ کو ایندھن کی اسمگلنگ کے شُبے میں تحویل میں لے لیا تھا۔

ایران نے 31 جولائی کو بھی ایک اور جہاز کو پکڑا تھا اور اس کے عملہ کے سات غیرملکی ارکان کو ایندھن کی غیر قانونی خریدوفروخت کے دھندے کے الزام میں پکڑا تھا لیکن آج تک نہ تو اس جہاز اور نہ اس کے عملہ کی شناخت ظاہر کی ہے۔

واضح رہے کہ جزیرہ ابوموسیٰ آبنائے ہُرمز کے دہانے کے نزدیک واقع ہے۔اس کے علاوہ دو اور جزیرے ایران کے قبضے میں ہیں لیکن متحدہ عرب امارات ان پر دعوے دار ہے اور اس کا کہناہے کہ یہ تینوں اس کے ملکیتی ہیں۔