.

صومالیہ میں موگادیشو دھماکے میں مارے جانے والے 4 تُرک کون تھے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں ہونے والے دھماکے میں ترکی کے 2 شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم صومالی سیکورٹی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں مارے جانے والے ترک شہریوں کی تعداد 4 ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والے دھماکے میں 90 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تفصیلات کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے اپنی گولہ بارود سے بھری گاڑی کو موگادیشو اور افجوی کے درمیان راستے پر دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا حملہ آور کا ارادہ اُس بس کو نشانہ بنانے کا تھا جو روزانہ تُرکوں کو لے کر اس راستے سے گزرتی ہے یا پھر صومالیہ کی فوج کی اُس چیک پوائنٹ کو جو دھماکے کے مقام کے قریب واقع ہے۔

صومالیہ میں اپوزیشن جماعت دجر پارٹی کے سربراہ عبدالرحمن عبدالشكور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے ترک انجینئروں کا تعلق ترکی کی ایک کمپنی سے جو افجوی کو دارالحکومت موگادیشو سے ملانے والا راستہ بنانے کا کام کر رہی ہے۔ ترکی کی کمپنی نے رواں سال جولائی سے اس راستے پر کام شروع کیا تھا۔ یہ راستہ صومالیہ کے جنوب میں دو شاہراہوں کی تعمیر سے متعلق قطری منصوبوں میں شامل ہے اور اس پر 20 کروڑ ڈالر کی لاگت آئے گی۔

دوسری جانب صومالیہ کی انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر عبد الله محمد علی عُرف سنبلولوشی کا کہنا ہے کہ دھماکے میں مارے جانے والے ترک انجینئرز ماضی میں حملوں کا نشانہ رہے اور محفوظ رہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ترک شہری انجینئرز اور کنٹریکٹرز ہیں جو افجوی اور موگادیشو کے بیچ راستے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ اس منصوبے کی فنڈنگ قطری ترقیاتی فنڈ نے کی ہے۔

صومالی حکام نے ہفتے کے روز ہونے والے دھماکے کا الزام دہشت گرد جماعت حرکت الشباب پر عائد کی ہے۔ صومالیہ کے صدر محمد عبد الله فرماجو نے ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں دھماکے میں مارے جانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور حرکت الشباب کے بارے میں کہا کہ یہ ایک دہشت گرد گروہ ہے جو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے مفاد میں کام کر رہا ہے۔