ایردوآن کی پالیسیاں اخوان المسلمون کی خوشنودی پرقائم ہیں:اپوزیشن لیڈر

ترک فوج لیبیا بھیجنے کا فیصلہ حماقت ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کی حزب اختلاف نے لیبیا میں فوج بھیجنے کے حکومتی فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے صدر طیب ایردوآن کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی کی اپوزیشن جماعت 'پیپلز ری پبلیکن' کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر کمال کلیچدار اوگلو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تُرک صدر رجب طیب ایردوآن کی پالیسیاں اخوان المسلمون کی خوشنودی پرمبنی ہیں اور وہ اخوان المسلمون کی مرضی اور منشاء کے مطابق خارجہ پالیسی کو ترتیب دے رہے ہیں۔

اوگلو نے زور دے کر کہا کہ ان کی پارٹی کے ارکان ترک فوج لیبیا بھیجنے کے میمورنڈم منظور کرنے کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

کلیچدار اوگلو نے کہا کہ صدر طیب ایردوآن اور ان کی حکومت کی پالیسیاں ملک کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہوں گی۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رہ نما نے ایردوآن کی ترکی کی خارجہ پالیسیوں کو اخوان المسلمین کی خوشنودی پر مبنی قراردیتے ہوئے ان پر کڑی تنقنید کی۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی خارجہ پالیسی اخوان المسلمون کے فکر وفلسفے کے مطابق اور اخوان کے مفادات کے تحفظ پرمبنی ہے۔ حکومت نے مصرکے حوالے سے جو طرز عمل اپنا رکھا ہے وہ صرف اور صرف اخوان کی خوشنودی کے لیے ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ترکی کے پاس ٹھوس خارجہ پالیسیاں نہیں ہیں۔ ہم اخوان المسلمون کے مفادات پرمبنی خارجہ پالیسیاں بنا رہے ہیں اور مصر اور دوسرے ممالک کے ساتھ اخوان کے نقطہ نظر سے بات کرتے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ خطے میں ترکی کم زور ہو مگردوسرے فریق کے ساتھ بات چیت کرکے ٹھوس طریقے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ اپوزیشن رہ نما نے لیبیا میں فوج تعینات کرنے حکومتی فیصلے پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ترک سپاہیوں کا خوان عرب صحرائوں میں گرایا جائے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ترک فوجیوں کو عرب کےریگستانوں میں شہید ہونے کے لیے بھیجا جا رہا ہے؟۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں