.

ایردوآن لیبیا میں فائز السراج حکومت کے لیے فوجی سپورٹ پر قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی پارلیمنٹ میں آج اُس قانونی قرار داد پر بحث متوقع ہے جس کے تحت عسکری فورس لیبیا بھیجے جانے کی اجازت دی جائے گی۔ بعد ازاں اس قانونی بل کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت لیبیا میں فائز السراج کی سربراہی میں وفاق کی حکومت کی اُس درخواست کے بعد سامنے آ رہی ہے جس میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن سے فوجی سپورٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی ٹیم کے کئی ذمے داران ایک سے زیادہ مرتبہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ لیبیا کی قومی فوج کے مقابل وفاق کی حکومت کو سپورٹ کرنے پر قائم ہیں۔

ایردوآن نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اُن کے ملک کو لیبیا میں وفاق کی حکومت کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے جس میں ترک فوج کو لیبیا بھیجنے کی گزارش کی گئی ہے۔ ایردوآن نے اس حوالے سے اپنے مصمم ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم یقینا ایسا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "وفاق کی حکومت کے ساتھ ہمارا سمجھوتا پوری طرح نافذ العمل ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں آ گیا ہے"۔

یاد رہے کہ ترکی کے نائب صدر فؤاد اوقطائے نے گذشتہ روز بدھ کو اعلان کیا تھا کہ اگر لیبیا کی قومی فوج نے طرابلس پر حملہ روک دیا تو انقرہ اپنی فوج کو لیبیا بھیجنے کا فیصلہ واپس لے سکتا ہے۔

ادھر لیبیا کی قومی فوج اور پارلیمنٹ بارہا یہ باور کرا چکی ہے کہ ترکی اور وفاق کی حکومت کے بیچ دستخط کیا جانے والا عسکری معاہدہ غیر قانونی ہے ،،، یہ لیبیا کے امور میں کھلی مداخلت اور اس کی خود مختاری پر حملہ شمار ہو گا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج ایک سے زیادہ مرتبہ باور کرا چکی ہے کہ وہ لیبیا کے دارالحکومت کو دہشت گرد ملیشیاؤں سے آزاد کرانے سے پہلے کسی طور بھی طرابلس کے معرکے کو نہیں روکے گی۔