.

امریکا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑ دینے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عراق سے چلے جائیں۔ یہ موقف جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بغداد میں امریکی میزائل حملے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی ہلاک ہو گیا۔ دیگر ہلاک شدگان میں عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کا نائب سربراہ ابو مہدی المہندس بھی شامل ہے۔

جمعے کے روز بغداد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ "عراق اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر امریکی سفارت خانہ اپنے تمام شہریوں پر زور دیتا ہے کہ وہ جنوری 2020 میں سفر سے متعلق رہ نما ہدایات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر عراق سے کوچ کر جائیں۔ امریکی شہریوں کو چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو وہ فضائی راستے سے کوچ کریں بصورت دیگر ان پر لازم ہے کہ خشکی کے راستے دیگر ممالک کا رخ کریں"۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو ڈرون طیاروں کے ذریعے کئی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان میزائلوں نے دو گاڑیوں کو حملے کا نشانہ بنایا جن میں سلیمانی اور دیگر ذمے داران سفر کر رہے تھے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" نے آج علی الصبح ہونے والی کارروائی کی بعض تفصیلات جاری کی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق سلیمانی کو نشانہ بنانے والی کارروائی بغداد کے ہوائی اڈے پر کارگو زون کے نزدیک کی گئی۔ عراقی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ سلیمانی کی لاش کے چیتھڑے اڑ گئے۔

عراق میں العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق سلیمانی کو نشانہ بنانے کی کارروائی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے کی گئی۔ اس طرح کی خبریں بھی ہیں کہ سلیمانی اور اس کے ساتھیوں کو نشانہ بنانے کے لیے چار میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

ہمارے نمائندے کے مطابق بغداد میں امریکی سفارت خانے کے اطراف سخت سیکورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ عراقی سیکورٹی فورسز نے امریکی سفارت خانے تک آنے والے معلق پُل کو بھی بند کر دیا ہے۔