.

سلیمانی اور المہندس کی ہلاکت پر ٹرمپ کی امریکی پرچم کے ساتھ 'فاتحانہ ٹویٹ'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سمندر پار عسکری کارروائیوں کی ذمہ دار 'قدس بریگیڈ' کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس کی حالیہ حملوں میں ہلاکت کے بعد امریکا کی طرف سے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز علی الصبح مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کی خبر پرامریکی پرچم کے ساتھ ٹویٹس کی جس کا مقصد ایرانی ملیشیائوں کے خلاف امریکا کی کامیاب کارروائیوں پر کامیابی اور فتح کو کا اظہار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عراق کی ایرانی حمایت یافتہ الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت پر ٹویٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے اسے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف فتح کی علامت قرار دیا۔

خیال رہے کہ امریکا نے منگل کے روز عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ٹھکانوں پرمنظم فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں دسیوں ایران نواز جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔ آج جمعہ کو علی الصباح امریکی طیارروں نے بغداد میں قائم بین الاقوامی فوجی اڈے کے جنوبی گیٹ پرایک گروپ کو نشانہ بنایا جس میں الحشد ملیشیا کے جنگجوئوں کے علاوہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔

اس حملے میں خبروں کی سرخیوں میں رہنے والے شدت پسند ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی الحشد ملیشیا کے سینیر کمانڈر ابو مہدی المہندس، محمد الجابری اور حیدرعلی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملےمیں ہلاک ہونے والے متعدد افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ ذرائع نے عراق میں لبنانی حزب اللہ کے کمانڈر محمد الکوثرانی کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں

اس عمل نے متعدد اجتماعی لاشیں بھی چھوڑ دیں ، جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

عراق میں امریکی فوج کی طرف سے یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دو روز قبل مشتعل ھجوم نے بغداد میں امریکی سفارت خانے میں گھس کر اسے نذرآتش کردیا تھا۔ امریکا نے اس اقدام کا الزام ایران پرعاید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔