.

عراقی حزب اللہ نے کوئی اور اشتعال انگیزی کی تواسے پچھتانا پڑے گا: امریکی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جُمعرات کو امریکی وزیر دفاع مارک ایسپرنے خبردار کیا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ عراقی حزب اللہ ملیشیا امریکی مفادات کے خلاف ایک اور اشتعال انگیز حرکت انجام دے سکتی ہے۔ انہوں نے عراقی جنگجوئوں کو خبر دار کیا کہ اگر انہوں نے کوئی اور اشتعال انگیز کارروائی کی انہیں بہت پچھتاوا ہوگا۔

ایسپر نے پریس کو بتایا کہ ہم مہینوں سے اشتعال انگیزی دیکھ رہے ہیں۔ اگر ہم نئے حملوں کا ہدف امریکا ہے تو ہم اپنے دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اپنے شہریوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہرمُمکن احتیاطی تدابیر اٹھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایران یا اس کی وفادار ملیشیائیں دوسرے حملے شروع کرنے کا ارادہ کر رہی ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا نے ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عراق کی طرف سے کوئی موثر کارروائی نہیں دیکھی۔ امریکی افواج پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوج کی تعداد کم کرنے کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

مارک ایسپر نے کہا اگر واشنگٹن حملوں کی تیاری سے آگاہ ہوجاتا ہے تو وہ امریکی افواج کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کے روزامریکی سفارت خانے پرعراقی ملیشیائوں جن میں عراقی حزب اللہ بریگیڈ سمیت دیگر جنگجوئوں نے دھاوا بول دیا تھا۔ اس سے دو روز قبل امریکی فوج کی شام اور عراق میں فوجی کارروائیوں میں عراقی حزب اللہ اور دیگر شدت پسند گروپوں کے 20 سے زاید جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے سیکیورٹی پوسٹ اور نگرانی کے کیمرے توڑتے ہوئے سفارت خانے کا گیٹ بھی نذرآتش کردیا تھا۔

جمہوریہ عراق کے صدر برہم صالح قائم مقام وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے امریکی سفارت خانے پرحملے کو عالمی سطح پر عراق کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدترین کوشش قرار دیا تھا۔