.

عراق میں تشدد کا سلسلہ ختم کیا جائے: یورپی یونین سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کونسل کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے میں اعلیٰ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق کے اندر صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بیلجیئم کے سابق وزیر اعظم چارلز مائیکل کا کہنا تھا کہ ’’عراق میں جاری تشدد، اشتعال انگیزیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے۔‘‘

سمندر پار ایرانی سبوتاژ کارروائیوں کی ذمہ داری القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے فوری بعد اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر مائیکل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کشیدگی میں مزید اضافے کو ہر قیمت پر روکنا جانا چاہیے۔

چارلز مائیکل نے براہ راست امریکی حملے کے ذکر سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے اندر بد امنی میں قاسم سلیمانی کی زیر کمان القدس فورس کی حمایت یافتہ متعدد عراقی ملیشیاؤں کا ہاتھ ہے۔

مسٹر مائیکل کے بہ قول ’’عراق بہت کمزور ہو چکا ہے۔ ہتھیاروں اور ملیشیاؤں کی بہتات کی وجہ سے عراق کے سادہ لوح عوام کی معمول کی زندگی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔‘‘

’’پورے خطے میں تشدد کی لہر میں اضافے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ جب مذہبی اور قومی تناؤ کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس صورت حال کا فائدہ اٹھا کر دہشت گردی پھیلانے والی فورسز کے سرگرم ہو جاتی ہیں۔‘‘