.

گوٹیرس نے ترکی کو لیبیا فوج بھیجنے کے نتائج سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ترکی کا نام لیے بغیر اسے لیبیا فوج بھیجنے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ "لیبیا میں متحارب فریقوں کے لیے کسی بھی غیر ملکی سپورٹ سے اس ملک میں جاری تنازع کی سنگینی میں اضافے کے سوا کچھ نہ ہو گا... اس طرح ایک پر امن سیاسی اور جامع حل تک پہنچنے کے واسطے جاری کوششیں پیچیدگی کا شکار ہو جائیں گی"۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ایک بار پھر باور کرایا کہ سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1970 کی مسلسل خلاف ورزیوں سے معاملات مزید خراب ہوں گے۔

لیبیا کو اسلحہ فروخت کرنے یا منتقل کرنے پر عائد پابندی سے متعلق یہ قرار داد 2011 میں منظور کی گئی تھی۔

گوٹیرس نے زور دیا کہ لڑائی روکنے کے لیے موزوں ماحول تیار کرنے کے سلسلے میں ہتھیاروں پر عائد پابندی پر سختی سے عمل درامد ضروری ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر لیبیا میں فائر بندی کا مطالبہ کیا اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی بات چیت کی طرف واپس آئیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جانب سے یہ انتباہ ترکی کے پارلیمنٹ میں صدر رجب طیب ایردوآن کی پیش کردہ یادداشت کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔ مذکورہ یادداشت ترکی کی فوج کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ لیبیا میں خلیفہ حفتر کی فوج کے مقابل فائز السراج کی وفاق کی حکومت کو سپورٹ کرے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ فائز السراج کے زیر قیادت وفاق کی حکومت کی جانب سے سپورٹ کی درخواست کی بنیاد پر متحرک ہوئے ہیں۔

لیبیا میں رواں سال چار اپریل سے شدید جھڑپیں دیکھی جا رہی ہیں جہاں لیبیا کی قومی فوج دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس دوران اسے وفاق کی حکومت کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کے ساتھ مقابلے کا سامنا ہے۔