.

سلیمانی اور المہندس کے جنازے میں امریکی کار کی 'تشہیر'

جنازوں کے لیے امریکی ساختہ کاروں کے استعمال پر سوشل میڈیا پربرہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل ہفتے کے روز مقتول ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابومہدی المہندس کی بغداد میں آخری رسومات کی ادائی کے بعد عراقی جنگجوئوں کو دفن کردیا گیا جب کہ قاسم سلیمانی کی لاش ایران روانہ کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتول جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی میتوں کو قبرستان لے جانے کے لیے امریکی ساختہ مشہور برانڈ کی'شیورلے' کار کا استعمال کیا گیا جس پرسوشل میڈیا پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ سلیمانی اور المہندس کی ہلاکت امریکی فوج کے حملے میں ہوئی۔ عراقی اور ایرانی حکام کو امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے مگر سلیمانی اور المہندس کی میتوں کے لیے ایرانی ساختہ 'شاہین' یا 'سماند' کاروں کے بجائے امریکی کمپنی کی کار کی تشہیر کی گئی۔

سوشل میڈیا پرہزاروں افراد نے امریکی شیورلے کار کےاستعمال کی ویڈیو کو ری ٹویٹ کیا۔ جمعہ کے روز امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی اور عراقی کمانڈروں کی نماز جنازہ میں عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بھی شرکت کی۔ دیگرپانچ مقتولین کو 'پک اپ' گاڑیوں میں الکاظمیہ کے قبرستان میں تدفین کے لیے جایا گیا۔ جنازے کے جُلوس میں سیاہ لباس میں ملبوس افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں الحشد ملشیا کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ تمام مقتولین کی نماز جنازہ کے بعد انہیں الکاظمیہ، کربلا اور نجف کے قبرستانوں میں دفن کیا گیا۔ قاسم سلیمانی کی میت ایران بھیج دی گئی ہے جہاں اس کے آبائی علاقے کرمان میں تدفین کی جائے گی۔ مہدی المہندس کو نجف میں دفن کیا گیا۔