.

ٹرمپ کی ایران کو وارننگ: ’’حملے کا جواب ایسا ہو گا جو پہلے کبھی نہ دیکھا ہو‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا پر حملے کی صورت میں ’’وہ ایران پر ایسی کاری ضرب لگائیں گے، جو ماضی میں کبھی نہ لگی ہو۔‘‘ انھوں نے کہا ’’میری ایران کو نصیحت ہے کہ وہ دوبارہ حملے سے باز رہیں۔ حملے کے صورت میں ان پر ایسا وار ہو گا جو ماضی میں کبھی نہ ہوا ہو۔‘‘

ایک الگ ٹویٹر پیغام میں صدر ٹرمپ نے امریکی فوجی ساز وسامان پر گھمنڈ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی امریکی فوجی اڈے یا سپاہی پر حملے کی صورت میں وہ اس فوجی طاقت کے استعمال میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔‘‘

ٹویٹ کے مطابق: ’’امریکا نے فوجی ساز وسامان پر دو ٹریلین ڈالر صرف کیے ہیں۔ ہم دنیا میں [فوجی لحاظ سے] سب سے بڑا اور بہترین ملک ہیں۔ ایران نے اگر کسی امریکی ٹھکانے یا امریکی شہری پر حملہ کیا تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ہم نئے نکور اسلحہ سے انہیں جواب دیں گے۔

52 ایرانی اہداف امریکی نشانے پر

درایں اثنا امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اس کے عسکری اڈوں، فوجیوں یا اثاثوں پرحملہ کیا تو تہران کی 52 تنصیبات کو فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اہداف کو انتہائی پھرتی اور شدت سے نشانہ بنایا جائے گا۔ صدر کا کہنا تھا کہ 1979 میں تہران میں 52 امریکیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ امریکا مزید خطرہ نہیں چاہتا۔

صدر نے اہداف کی نشاندہی نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بعض مقامات ایران کے لیے نہایت اہم اور حساس ترین ہیں۔

خیال کیا جارہا ہے کہ یہ بیان ایرانی کمانڈر جنرل غلام علی ابو حمزہ کی جانب سے گزشتہ روز دیئے گئے اس بیان کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو جنرل سلیمانی پر حملے کا جواب دیا جائے گا۔

جنرل غلام علی ابو حمزہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز اور سمیت 35 تنصیبات ایران کے ہدف پر ہیں۔