.

ایران کے رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای مقتول قاسم سلیمانی کی نمازِجنازہ کی امامت کراتے ہوئے اشکبار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای امریکا کے بغداد میں فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے میجر جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ کی امامت کراتے ہوئے آنسوؤں سے رو دیے ہیں۔

قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھ امریکا کے ڈرون حملے میں مارے گئے عراقی ملیشیا کے لیڈر ابومہندی المہندس کی ایک اور نمازجنازہ سوموار کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ادا کی گئی ہے۔ اس میں صدر حسن روحانی سمیت ایران کے اعلیٰ سول اور فوجی عہدے داروں اور سیاست دانوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق نماز جنازہ میں لاکھوں افراد شریک تھے اور تاحدِ نگاہ لوگ نظر آرہے تھے۔اس موقع پر قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی نے تقریرکرتے ہوئے مشرقِ اوسط میں امریکی فوجیوں پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

انھوں نے کہا:’’ جنوبی ایشیا میں موجود امریکی فوجیوں کے خاندان اب اپنے بچوں کی موت کے انتظار میں دن گزاریں گے۔‘‘

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی اور دوسرے مقتولین کے تابوتوں پر نمازجنازہ کی خود امامت کی۔اس دوران میں وہ آبدیدہ ہوگئے اور ان کی آواز پر اجتماع نے بھی آہ وبکا شروع کردی۔مقتول قاسم سلیمانی ایرانی رہبرِاعلیٰ کے مقربِ خاص تھے اور انھیں ان کے بعد ملک کی دوسری طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

مقتول سلیمانی کے جانشین اور سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قاآنی نے سوموار کو سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں امریکا سے بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ان (قاسم سلیمانی) کے انتقام کا وعدہ کیا ہے اور اللہ ہی بہتر انتقام لینے والا ہے۔یقینی طور پر کارروائی کی جائے گی۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا نے اسماعیل قاآنی پر 2012ء سے پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔ان پر دنیا بھر میں القدس فورس کی آلہ کار تنظیموں کی کارروائیوں کے لیے فنڈز مہیا کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ان میں عراق ، لبنان اور یمن میں کام کرنے والی ایران کی گماشتہ تنظیمیں شامل ہیں۔ انھیں اب مشرق اوسط یا دنیا بھر میں امریکا کے مفادات پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس سمیت متعدد جنگجو جمعہ تین جنوری کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود جنرل قاسم سلیمانی پر اس ڈرون حملے کا حکم دیا تھا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ، صدر حسن روحانی اور سپاہِ پاسداران انقلاب کے متعدد سینیر کمانڈروں نے امریکا سے ان کی موت کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔