.

ترکی کی انٹیلی جنس اور غیر ملکی جنگجوؤں نے لیبیا کا رخ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ذرائع نے اتوار کو رات گئے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا کہ مختلف قومیتوں کے حامل جنگجو شام سے طرابلس پہنچ رہے ہیں۔ یہ بات اتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ ترکی کے فوجیوں نے بتدریج لیبیا کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

مذکورہ ذرائع نے باور کرایا کہ ترکی کی انٹیلی جنس کے عناصر طرابلس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد ترکی کی فوج کے داخلے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ ترکی نے اہم فوجی ساز و سامان بھی طرابلس میں وفاق کی حکومت کے حوالے کیا ہے۔ مزید یہ کہ طرابلس میں وفاق کی حکومت کا انقرہ کے ساتھ ایک خفیہ سمجھوتا بھی طے پایا ہے۔ اس کے مطابق وفاق کی حکومت لیبیا میں ترکی کے ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے لیے زر تلافی کی ادائیگی کرے گی۔

دوسری جانب لیبیا میں بالخصوص طرابلس کی فضاؤں میں ہوابازی پر پابندی عائد کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی مشاورت جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد لیبیا اسلحہ پہنچانے کے لیے ترکی کے طیاروں کے استعمال کو یا لیبیا کی اراضی پر ترکی کے طیاروں کی اڑان کو روکنا ہے۔ یورپی ممالک نے ہوابازی پر پابندی کی قرار داد کی حمایت کی ہے۔

ادھر لیبیا میں امریکی سفارت خانے نے دارالحکومت طرابلس میں حالیہ دنوں میں عسکری جارحیت کے اضافے اور شدت کی مذمت کی ہے۔ اتوار کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالات کا یہ بگاڑ لیبیا میں غیر ملکی زہریلی مداخلت کے خطرات کو نمایاں کر رہا ہے۔ سفارت خانے کے بیان کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ شامی جنگجو اور روس کے اجرتی قاتل لیبیا پہنچ رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سفارت خانہ لیبیا میں غیر ملکی مداخلت پر روک لگانے اور تشدد کے خاتمے کی کوششیں سپورٹ کرنے کے لیے تیار ہے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں سیاسی بات چیت کے آغاز کے لیے بھی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

یاد رہے کہ شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سب سے بڑے گروپ 'المرصد السوری' کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وفادار ایک ہزار شامی جنگجو لڑائی میں حصہ لینے اور قومی وفاق کی حکومت کی مدد کے لیے لیبیا پہنچ گئے ہیں۔ المرصد نے بتایا ہے کہ شام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی بڑے پیمانے پر بھرتیاں جاری ہیں اور اس وقت 1700 شامی جنگجو ترکی کے ہاں زیرتربیت ہیں۔ انہیں جلد ہی لیبیا بھیجے جانے کے امکانات ہیں۔ یہ جنگجو عفرین اور 'فرات کی ڈھال' آپریشن والے علاقوں سے بھرتی کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق طرابلس میں لڑائی کے دوران ایک شامی جنگجو کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مقتول جنگجو 'سلطان مراد' نامی عسکری گروپ میں شامل تھا اور اسے حال ہی میں لیبیا میں لڑائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔

تاہم 'سلطان مراد' ملیشیا کی طرف سے اپنے کسی جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔