.

لیبیا میں وفاق حکومت کا سلامتی کونسل کو خط ، ترکی کی فوج کی آمد کا تذکرہ غائب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو اُس خط کی ایک کاپی موصول ہوئی ہے جو لیبیا میں وفاق حکومت نے اتوار پانچ جنوری کو عالمی سلامتی کونسل کے سربراہ ڈینگ ڈینا کیوی اور کونسل کے دیگر ارکان کو ارسال کیا۔ اس خط پر اقوام متحدہ میں لیبیا کے ناظم الامور المہدی المجربی کے دستخط ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ مذکور خط میں لیبیا کی قومی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر کے "جرائم" کی پُر زور مذمت کی گئی ہے تاہم ترکی کے اُن فوجیوں کا کوئی ذکر نہیں جن کی طرابلس آمد طے شدہ ہے۔ خط میں باور کرایا گیا ہے کہ وفاق حکومت لیبیا میں اقتدار کی حامل واحد قانونی فریق ہے۔

معلوم رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ روز ہی تصدیق کی ہے کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے ہماری فوج طرابلس پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ سی این این (ترکی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ترکی اپنے سینیر فوجی افسران کو بھی لیبیا میں وفاق کے زیر انتظام ملیشیاؤں کی مدد کے لیے بھیجے گا۔

ایردوآن کا کہنا تھا کہ لیبیا میں ترک فوج کا مقصد لڑائی میں حصہ لینا نہیں بلکہ قومی وفاق حکومت کی معاونت کرنا ہے تاکہ لیبیا میں انسانی المیے سے بچا جا سکے۔

یاد رہے کہ لیبیا میں العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے اتوار کو رات گئے بتایا کہ مختلف قومیتوں کے حامل جنگجو شام سے طرابلس پہنچ رہے ہیں۔ یہ بات ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے اتوار کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ ترکی کے فوجیوں نے بتدریج لیبیا کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

مذکورہ ذرائع نے باور کرایا کہ ترکی کی انٹیلی جنس کے عناصر طرابلس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد ترکی کی فوج کے داخلے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ ترکی نے اہم فوجی ساز و سامان بھی طرابلس میں وفاق کی حکومت کے حوالے کیا ہے۔