.

ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹس کو نوٹیفکیشن باور کرانے پر اسپیکر نینسی پلوسی چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ باور کرا چکے ہیں کہ ٹویٹر پر ان کی پوسٹیں ان کے عسکری اقدامات کے حوالے سے امریکی کانگرس کے لیے نوٹیفکیشن کی حیثیت رکھتی ہیں تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ ایوان نمائندگان میں امریکی صدر کی ٹویٹس کو "مخالف کیمپ" کی جانب سے مثبت طور نہیں لیا جا رہا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے ایوان میں جنگ کے اختیارات سے متعلق ایک قرار داد پیش کرنے کے بعد اس پر رائے شماری کی جائے گی۔ اس قرار داد کا مقصد ایران کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عسکری اقدامات پر روک لگانا ہے۔

نینسی پلوسی نے اتوار کی شب رات گئے ایک بیان میں کہا کہ "یہ قرارداد سینیٹر ٹم کین کی جانب سے سینیٹ میں پیش کی گئی قرار داد سے ملتی جلتی ہو گی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس قرارداد سے نگرانی سے متعلق کانگرس کی ذمے داریوں کو باور کرایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر نے حریف ڈیموکریٹس کی جانب سے خود پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی عسکری کارروائی کے لیے کانگرس سے گرین سگنل حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ کے حریف ڈیموکریٹس اس امر پر چراغ پا ہیں کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے لیے ہونے والے آپریشن سے پیشگی مطلع نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے کانگرس کو قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے آپریشن کے بارے میں سرکاری طور پر کارروائی کے 48 گھنٹے بعد ہفتے کے روز مطلع کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل میں کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے کانگرس کی موافقت حاصل کرنے کے مطالبات کے جواب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کی صورت میں اُن کی ٹویٹس پیشگی نوٹفکیشن ہوں گی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے باور کرایا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی کوئی بھی آئندہ فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہو گی۔ پومپیو کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کانگرس کی قیادت کو امریکی حملے کے جواز سے مطلع کرنا شروع کر دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اسے پوری طرح آگاہ رکھا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی اجازت حاصل کرنے کی تگ و دو کے حوالے سے سوال پر امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس وہ تمام اختیارات ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے لہذا ہم نے اب تک جو چاہا اس پر عمل کیا۔ آئندہ بھی ہم مناسب، قانونی اور آئینی صورت میں امور کو انجام دیتے رہیں گے"۔