.

آئندہ جواب میں ایران کی ’’فیصلہ ساز‘‘ شخصیات کو لپیٹ میں لیا جائے گا: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے باور کرایا ہے کہ امریکا نے ایران کو ایک بھرپور پیغام پہنچا دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ "بہت ہو گیا"۔ پیر کی شب امریکی ٹی وی نیٹ ورک ABC کو دیے گئے انٹرویو میں پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے ایرانی نظام کے لیے یہ بات واضح کر دی ہے کہ خطے میں اپنے "ایجنٹوں" کے ذریعے امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھ کر تہران کے لیے ممکن نہیں کہ اپنی سرزمین کے محفوظ رہنے کی توقع رکھے۔

انہوں نے کہا کہ "امریکا اس مرتبہ ایران میں فیصلہ ساز شخصیات کو نشانہ بنا کر جواب دے گا، وہ ذمے داران جو مذکورہ نوعیت کی دھمکیوں پر عمل درامد کے فیصلے کرتے ہیں"۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ "دسمبر کے اواخر میں سلیمانی نے جو کچھ کیا (ان کا اشارہ کرکوک میں فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے اور اس میں ایک امریکی دفاعی ٹھیکے دار کی ہلاکت کی جانب تھا) وہ یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ یہ کمانڈر ایک خطرہ بن چکا تھا .. وہ ایسے منصوبے وضع کرنے کے درپے تھا جو مزید امریکیوں کی جان لے سکتے تھے"۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے اتوار کے روز شدید لہجے میں ایران کو خبردار کیا تھا۔ انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا جواب دینے کی کوشش کی گئی تو امریکا ،،، ایران کے اندر فوری طور پر بھرپور انداز سے کاری ضربیں لگائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا ان کی انتظامیہ نے نشانہ بنانے کے لیے ایران کے 52 ٹھکانوں کا تعین کیا ہے جن میں بعض مقامات ایران اور ایرانی ثقافت کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔