.

امریکا کا ایرانی وزیر خارجہ کو ویزا دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی ذمے دار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے ویزے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ظریف کو جمعرات کے روز سلامتی کونسل کے مقررہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنا تھا۔

یہ پیش رفت جمعے کے روز بغداد میں امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس دوران دنوں ممالک کے بیچ دھمکیوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

مذکورہ دھمکیوں کے تبادلے میں آخری بیان ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے سامنے آیا۔ پیر کے روز روحانی نے ٹویٹر پر کہا کہ "جو لوگ 52 نمبر کا حوالہ دیتے ہیں انہیں 290 کے عدد کو یاد رکھنا چاہیے (روحانی کا اشارہ اُس مسافر بردار ایرانی ہوائی جہاز کی طرف تھا جسے امریکا نے 1988ء میں مار گرایا اور اس واقعے کے بعد ایران نے عراق کے ساتھ جاری آٹھ سالہ جنگ روکنے کا اعلان کیا تھا)۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ "امریکا نے ایران میں 52 مقامات کی نشان دہی کی ہے۔ جنگ کی صورت میں ان مقامات کو سرعت اور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر ہمارے لوگوں یا مفادات پر ایران حملہ کرتا ہے تو ایران کے باون مقامات ہمارے نشانے پر ہوں گے"۔

یاد رہے کہ امریکا نے گذشتہ برس جولائی میں نیویارک آنے والے ایرانی وزیر خارجہ کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا۔ انہیں اقوام متحدہ کی عمارت کے پڑوس میں 3 عمارتوں سے زیادہ آگے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اُس وقت مذکورہ پابندیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیویارک میں ایرانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت پر امریکی روک ٹوک "غير انسانی" ہے۔