.

باراک اوباما نے حزب اللہ کی منشیات نیٹ ورک سے کیسے اغماض برتا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کو جوہری معاہدے کا تحفہ دینے کے ساتھ منشیات کےدھندے کی روک تھام کے لیے جاری مہم کو آگے بڑھانے کے بجائےحزب اللہ کی منشیات کی اسمگلنگ کے معاملے سے دانستہ طورپر پہلو تہی برتی۔ سابق امریکی صدر کی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم میں نرمی برتنے کے نتیجے میں حزب اللہ کو امریکا میں کوکین جیسی منشیات کی اسمگلنگ کا موقع ملا۔

باراک اوباما کے دور صدارت میں حزب اللہ نے منشیات کے دھندے اور اس نیٹ ورک کو کیسے پھیلایا۔ اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جریدہ' پولی ٹیکو' میں شائع ہوئی ہے۔

"کیسینڈرا پروجیکٹ"

یہ واقعات سنہ 2008 کے ہیں جب امریکی ڈرگ انفورسمنٹ انتظامیہ نے شواہد اکٹھا کرنے کے بعد "کیسینڈرا پروجیکٹ" کے نام سے سیکیورٹی مہم چلائی تھی کہ حزب اللہ مشرق وسطی پر متمرکز ایک فوجی اور سیاسی تنظیم سے منظم جرائم کے ایک بین الاقوامی گروہ میں تبدیل ہوچکی ہے جس سے سالانہ ایک ارب ڈالر کی رقم جمع کی جاتی ہے۔ منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کے ساتھ حزب اللہ رقوم کےحصول کے لیے منی لانڈرنگ کو بھی ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔

اگلے آٹھ سالوں میں ورجینیا کے چنٹیلی میں ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) دنیا کی انتہائی مستعد 30 امریکی اور غیر ملکی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر حزب اللہ کے مجرمانہ نیٹ ورک کے عناصر کی نگرانی کے لیے ان کی فون کالز کی ریکارڈنگ شروع کی۔ اس مقصد کے لیے خفیہ ایجنٹ بھرتی کیے اورمخبروں کی مدد سے حزب اللہ کےاسمگر مافیا کا سراغ لگایا۔

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ امریکا میں پہنچائی جانے والی کوکین لاطینی امریکا، مغربی افریقہ ، یورپ اور مشرق وسطی، وینزویلا اور میکسیکو کے راستے امریکا لائی جاتی ہیں۔ ان تحقیقات کے دوران حزب اللہ کی منی لانڈرنگ کے راستوں کا سراغ لگایا گیا۔ حزب اللہ کے کارکنوں نے استعمال شدہ امریکی کاریں خریدنے اور افریقہ بھیجنے کے ہتھکنڈوں کا سہارا لیا۔ تعاون کرنے والے کچھ اہم گواہوں اور سولت کاروں کی مدد سے امریکی حکام منشیات فروش حزب اللہ اور ایران کی سرگرمیوں کی سرپرستی کرنے کے گہرے نیٹ ورک تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

رکاوٹیں

لیکن کیسینڈرا پروجیکٹ کے اس مقام تک پہنچنے کے بعد اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں نے رکاوٹیں کھڑی کیں۔ موجودہ انتظامیہ ان رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ جب درجنوں افراد کی مدد سے کینسڈرا پروجیکٹ کے ارکان حزب اللہ نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈائون، گرفتاریوں یا ان پرپابندیوں کے مرحلے تک پہنچے تو اوباما انتظامیہ بالخصوص امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے امریکی حکام کی طرف سے کارروائی کے لیے دی گئی درخواستوں پرعمل درآمد میں دانستہ تاخیر شروع کردی اور بہت سی درخواستوں کو سرے سے زیرغور لائے بغیر انہیں مسترد کردیا گیا۔ حزب اللہ کے متحرک اسمگلر نیٹ ورک نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور انہوں نے امریکا میں منشیات اور دیگر جرائم کے فروغ کی مہمات تیز کردیں۔

جریدہ 'پولیٹیکو' کی تحقیقات کی تفصیلات اوباما انتظامیہ کی خواہشات اور اعلٰی سطح پر ترجیحات میں تضاد کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک طرف اوبانا انتظامیہ منشیات کی روک تھام کے بلند بانگ نعرے لگاتی اور دوسری طرف حزب اللہ کے منشیات نیٹ ورک کے خلاف کی گئی کامیاب کوششوں کو بھی ضائع کررہی تھی۔

اوباما کے وعدے

سابق صدر باراک اوباما نے سنہ 2009ء میں اقتدار سنبھالا تو ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ انتخابی مہم کے تناظر میں انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ بش انتظامیہ کی ایران پر اس کے غیر قانونی جوہری پروگرام کو روکنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی پالیسی کام نہیں کررہی ہے۔ وہ تناؤ کو کم کرنے کے لیے تہران کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

اوباما کے ایران کے حوالے سے اقدامات صرف کشیدگی ختم کرنے تک ہی محدود نہیں تھے۔ اوباما کے انسداد دہشت گردی کے لیے سینیر مشیر جان برینن جو بعد میں 'سی آئی اے' کے ڈائریکٹر بنے ایک قدم اور آگے نکل گئے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ نئے امریکی صدر کے پاس نہ صرف براہ راست ایران کے ساتھ بات چیت کا اختیار بلکہ وہ حزب اللہ کی لبنانی حکومت میں شمولیت پر بھی راضی ہو تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کی نئی راہیں نکالی جاسکیں۔

"کیسینڈرا پروجیکٹ" کے ممبروں کے مطابق اوباما انتظامیہ نے خواہش کے عملی ادراک کے فریم ورک میں مشرق وسطی میں حزب اللہ کے لیے ایک نئے کردار کا تصور پیش کیا۔ اس کے علاوہ ایرانی جوہری پروگرام تک مذاکرات کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے حزب اللہ کے امریکا اور عالمی سطح پر نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں اغماض برتا گیا۔