.

امریکی فوج کو ایرانی میزائل حملے کا پیشگی علم تھا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی فوجی ذمے دار کا کہنا ہے کہ عراق میں فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کے حوالے سے امریکی فوج کے پاس پیشگی اطلاع موجود تھی۔ ذمے دار نے اس بات کا انکشاف امریکی نیوز چینل CNNکو دیے گئے ایک خصوصی بیان میں کیا۔

مذکورہ ذمے دار کے مطابق قبل از وقت انتباہی اطلاع اس بات کے لیے کافی تھی کہ اس دوران خطرے کے سائرن بجا دیے جائیں، فوجی عناصر کو خطرے کے مقامات سے دور کر دیا جائے اور زیر زمین محفوظ چیمبروں میں اترا جا سکے۔

ایک امریکی فوجی ذمے دار نے "العربیہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کی خاتون رپورٹر کو بتایا کہ ایرانی میزائلوں سے امریکی فوج کی صفوں میں کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔

اسی طرح عراق، آسٹریلیا اور ڈنمارک نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عین الاسد فوجی اڈے پر حملے میں ان ممالک کی افواج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر ایک اور فوجی ذمے دار نے CNN چینل کو بتایا کہ ایرانی میزائل حملوں کے بعد امریکی افواج نے اُن فوجی اڈوں کے اطراف حفاظتی گشت شروع کر دیا ہے جہاں امریکی فوجی بھی موجود ہیں۔ ذمے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور فوجی ہیلی کاپٹر ان اڈوں کے اطراف فضاؤں میں پروازیں کر رہے ہیں۔

بدھ کو علی الصبح ایرانی پاسداران انقلاب نے عراق میں عین الاسد اور حریر کے فوجی اڈوں کو بیسلٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی جمعے کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے انتقام کے سلسلے میں کی گئی۔

امریکی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ ایران نے امریکی اور اتحادی افواج کی میزبانی کرنے والے ان دونوں اڈوں پر متعدد میزائل داغے۔