.

عراق میں ’’امریکا کے چہرے پر تھپڑ‘‘میزائل حملہ کامیاب رہا ہے: خامنہ ای

فوجی کارروائی کافی نہیں ،اہم معاملہ یہ ہے کہ خطے میں امریکا کی بدعنوان موجودگی کا خاتمہ کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق میں امریکی فوج اور اتحادی فورسز کے خلاف حملے کو کامیاب قراردیا ہے۔

انھوں نے عراق میں امریکی فوج کے دو اڈوں پر پاسداران انقلاب کے میزائل حملے کے بعد بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں یہ دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے ایران کے اس میزائل حملے کو امریکا کے ’’چہرے پرتھپڑ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی فوجی خطے سے نکل جائیں کیونکہ یہ خطہ امریکا کو قبول نہیں کرے گا۔

خامنہ ای نے کہا کہ ’’ اس طرح کی فوجی کارروائی کافی نہیں ہے۔اہم بات یہ ہے کہ خطے میں امریکا کی بدعنوان موجودگی کا خاتمہ کیا جائے۔‘‘انھوں نے امریکا کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے پر مذاکرات کی بحالی کو خارج از امکان قراردیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اسرائیل کی مدد کے لیے ایران کی اتحادی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ مئی 2018ء کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کے ردعمل میں ایران نے امریکا کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات منقطع کردیے تھے۔

امریکی صدر نے ایران پر دہشت گردوں اور اپنے آلہ کار غیرملکی گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔ان پابندیوں میں ایران کی تیل کی برآمدات ، جہاز رانی اور بنک کاری کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔ان کے نتیجے میں ایران کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔