.

قذافی دور کے بقایا جات، تُرکی، لیبیا سے پونے تین ارب ڈالر ہتھیانے کے چکر میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرکی اور لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے درمیان دو طرفہ تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دونوں حکومتوں کے درمیان 27 ستمبر کو سیکیورٹی اور بحری تعاون کے معاہدے کی منظوری دی گئی جسے لیبیا کی پارلیمنٹ نے مسترد کردیا تھا۔ ان معاہدوں پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور لیبیا کی قومی وقاق حکومت کے وزیر اعظم فایز السراج نے دستخط کیے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور بعض دوسرے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ فائز السراج اور ایردوآن کے درمیان ایک نئے سمجھوتے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس ممکنہ سمجھوتے کے بعد سنہ 2011ء میں کرنل قذافی کے قتل اور ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ترکی کی کمپنیوں پرعاید کردہ پابندی ختم کردی جائے گی۔ قذافی دور کی اسکیموں اور منصوبوں میں ترکی کو واجب الاداء رقوم انقرہ کے حوالے کرنے کی یقین دہانی کرائی جائےگی۔ اس طرح ترکی قذافی دور کے روکے گئے پیسوں کو وصول کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔

ایک سینیر ترک عہدیدار نے بتایا کہ ان کا ملک فروری 2020ء میں طرابلس کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ ایک نئے سمجھوتے پر دستخط کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت لیبیا کی حکومت کرنل قذافی کے دور کے دو ارب 70 کروڑ ڈالرانقرہ کو ادا کرنے کی پابند ہو گی۔

یہ رقم کرنل قذافی کے دور میں ترکی کی مختلف کمپنیوں کو لیبیا کی طرف سے منصوبوں پر کام کے دوران ادا کی جانا تھی تاہم کرنل قذافی کے خلاف عوامی بغاوت اور ان کا تختہ الٹے جانے کے بعد ترک کمپنیاں اس خطیر رقم سے محروم ہو گئی تھیں اور انہیں کام ادھورے چھوڑ کرترکی واپس آنا پڑا تھا۔

ترک حکومت کی بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کونسل کے چیئرمین مظفر اکسوی کا کہنا ہے کہ لیبیا اور ترکی کے درمیان جلد ہی مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوں گے۔

خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' کے مطابق ماضی کی اسکیموں پرکام بحال نہیں کیا جائے گا بلکہ لیبیا کی حکومت بغاوت کے بعد ترک کمپنیوں کو پہنچنے والے مالی نقصان کے ازالے کے طور پر دو ارب ستر کروڑ ڈالر کی رقم ادا کرے گی۔ اس سلسلے میں لیبی حکومت انقرہ کو ڈیڑھ ارب ڈالر ترک کمپنیوں کے آلات اور مشینری کو پہنچنے والے نقصان کی مد میں ادا کرے گی جب کہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم واجب الاداء قرضوں کی شکل میں ادا کرے گی۔