.

عُمان کے سلطان قابوس کی وفات پر حلیف اور حریف ممالک غم میں برابر کے شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر اور خطے کے مختلف لیڈر اتوار کے روز عُمان کے دارالحکومت مسقط پہنچے ہیں۔انھوں نے اس خلیجی ریاست کے نئے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی ہے اور ان سے مرحوم سلطان قابوس بن سعید کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ان میں آپس میں بعض حریف ممالک کے لیڈر بھی شامل تھے۔

سلطان قابوس کی وفات پر تعزیت کے لیے مسقط آنے والوں میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے حکمراں بھی شامل ہیں جن کی آپس میں مخاصمت چلی آرہی ہے۔ان کے علاوہ ایران کے وزیر محمد جواد ظریف نے بھی مسقط میں عُمان کے نئے سلطان سے ملاقات کی ہے اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

سلطان قابوس ہفتے کو علی الصباح مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے۔انھوں نے اپنے طبّی معائنے کے لیے گذشتہ ماہ دسمبر کے اوائل میں بیلجیئم کا مختصر دورہ کیا تھا لیکن ان کی واپسی کے بعد عُمانی حکام نے ان کی صحت سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

عُمان کے نئے سلطان ہیثم بن طارق نے ہفتے کے روز اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پیش رو کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اس پالیسی کے تحت عُمان نے اپنے ہمسایہ ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک توازن برقرار رکھا تھا۔

انھوں نے قطر کے بائیکاٹ میں خلیج تعاون کونسل کے باقی تین ممالک کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھا تھا۔انھوں نے 2013ء میں امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات بھی کرائے تھے۔ان کے نتیجے میں مغربی ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوا تھا اور دو سال کے بعد جولائی 2015ء میں ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری سمجھوتا طے پایا تھا۔

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا علان کردیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تعزیتی پیغام میں سلطان قابوس کو امریکا کا حقیقی شراکت دار قرار دیا ہے۔مرحوم نے امریکا کے مختلف نو صدور کے ساتھ کام کیا تھا۔امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سلطان قابوس نے خطے میں قیام امن کے لیے مذاکرات کے اہتمام میں بے مثال کاوشیں کی تھیں۔اس سے ہر ایک کے نقطہ نظر کو سننے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور شہزادہ چارلس بھی مسقط میں تعزیتی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔مسقط آنے والی دوسری مغربی شخصیات میں فرانس کے سابق صدر نیکولا سارکوزی بھی شامل ہیں۔

مرحوم سلطان قابوس مغرب کے اتحادی رہے تھے۔ وہ 1970ء میں ایک انقلاب کے بعد اس خلیجی عرب ریاست میں برسراقتدار آئے تھے۔انھوں نے کسی خونریزی کے بغیر عُمان کی سابق نوآبادیاتی طاقت (کالونیل پاور) برطانیہ کی مدد سے یہ انقلاب برپا کیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے اس ننھی خلیج ریاست کو جدید خطوط پر ترقی یافتہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور سفارتی محاذ پر اپنی مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں عمان کی ایک ثالث ملک کی حیثیت سے پہچان بنائی تھی۔