.

لیبیا:قومی اتحاد کی حکومت کی فورسز نے جنگ بندی قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت نے روس اور ترکی کی اپیل پر جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔ جی این اے کی حکومت کے اس فیصلہ سے قبل ہفتے کی شب لیبی قومی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے مشروط طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔

جی این اے کے وزیراعظم فایزالسراج نے ایک بیان میں کہا ہےکہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کی اپیل کے جواب میں اتوار 12 جنوری کی نصف شب (2200 جی ایم ٹی) سے جنگ بندی کی جارہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جی این اے کی فورسز دوسرے کیمپ کی جانب سے کسی بھی حملے اور جارحیت کا جواب دینے کا ’’قانونی حق‘‘ محفوظ رکھتی ہیں۔

قبل ازیں خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) نے مشروط طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور شرط یہ عاید کی تھی کہ اگر دوسرا فریق (قومی اتحاد کی حکومت) جنگ بندی کی پاسداری کرے گا تو پھر جنگی کارروائیاں روک دی جائیں گی۔اس اعلان سے قبل جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ لیبیا میں قیام امن کے لیے بات چیت برلن میں ہوگی۔

لیبیا کے خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان قومی فوج اپریل 2019ء سے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے وزیراعظم فایزالسراج کے زیر کمان فوج اور ملیشیاؤں کے خلاف جنگ آزما ہے۔