.

لیبی قومی فوج کا مجوزہ امن مذاکرات سے قبل مشروط اعلانِ جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج نے مشروط طور پر مجوزہ امن مذاکرات سے قبل جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور شرط یہ عاید کی ہے کہ اگر دوسرا فریق (قومی اتحاد کی حکومت) جنگ بندی کی پاسداری کرے گا تو پھر جنگی کارروائیاں روک دی جائیں گی۔

لیبی قومی فوج کے اس اعلان سے قبل جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ لیبیا میں قیام امن کے لیے بات چیت برلن میں ہوگی۔ترکی اور روس نے لیبیا کے متحارب فریقوں سے جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔

لیبیا کے خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان قومی فوج اپریل 2019ء سے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے وزیراعظم فایزالسراج کے زیر کمان فوج اور ملیشیاؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

جنرل خلیفہ حفتر نے گزشتہ سال نومبر میں اپنے زیر کمان قومی فوج کو دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا تھا۔ انھوں نے شہر میں موجود مسلح ملیشیاؤں کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی پیش کش بھی کی تھی۔

لیبی قومی فوج نے نومبر میں ترکی اور جی این اے کی حکومت کے درمیان بحرمتوسط میں ڈرلنگ کے لیے طے پانے والی ڈیل کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اس سمجھوتے کے دونوں فریقوں پر بحرمتوسط کے مشرقی کنارے میں واقع دوسرے ممالک کے قانونی حقوق کو ملحوظ نہ رکھنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔