.

مظاہرین کو قتل نہ کیا جائے :ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی قیادت کو انتباہ

ایران کے ساتھ پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں:وزیر دفاع ایسپر کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے مسافر طیارے کو مارگرانے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو ہلاک نہ کیا جائے جبکہ ان کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایران کو پیش کش کی ہے کہ اس کے ساتھ کسی پیشگی شرائط کے بغیر اب بھی مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے لیڈروں کو اتوار کے روز ایک ٹویٹ میں مخاطب ہوکر لکھا ہے کہ’’ اپنے مظاہرین کو قتل نہ کریں۔تم نے پہلے ہی ہزاروں افراد کو قتل کردیا ہے یا جیلوں میں ڈال دیا ہے اور دنیا یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ امریکا یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔اپنے ہاں انٹر نیٹ کو بحال کرو اور رپورٹروں کو آزادانہ گھومنے پھرنے کی آزادی دو! اپنے عظیم ایرانی عوام کے قتل کا سلسلہ بند کردو۔‘‘

انھوں نے یہ انتباہ ایران کے مختلف میں نئے احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں کیا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران کے نواح میں گذشتہ بدھ کو یوکرین کے ایک مسافر طیارے کے حادثے پر ہفتے سے خامنہ ای نظام کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز اس مسافر طیارے کو غلطی سے ایک میزائل سے مارگرانے کا اعتراف کیا ہے اور اس پر معافی مانگی ہے لیکن اس سنگین غلطی پر ایرانی شہریوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ بیرونی دنیا کی جانب سے بھی ایران اور اس کی قیادت پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔

صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ سے چندے قبل ہی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ٹی وی چینل سی بی ایس کے پروگرام ’’فیس دا نیشن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کے لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھاکہ ’’ہم اب بھی مل بیٹھنے اور کسی پیشگی شرط کے بغیر بات چیت کو تیار ہیں تاکہ آگے بڑھنے کا ایک نیا راستہ تلاش کیا جاسکے۔یہ سلسلہ وار اقدامات ہیں جن کے نتیجے میں ایران ایک زیادہ نارمل ملک بن سکتا ہے۔‘‘