.

لیبیا معاہدے میں ترکی کی فوج کا ارسال روکا جانا شامل ہے : العربیہ ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر اور وفاق کی حکومت کے وزیراعظم فائز السراج کے درمیان فائر بندی کے معاہدے پر آج ماسکو میں دستخط ہونے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں "العربیہ " اور "الحدث" نیوز چینلوں کے ذرائع نے پیر کے روز بتایا ہے کہ اس معاہدے میں ترکی کی فوج کے لیبیا بھیجے جانے کو روک دینا بھی شامل ہے۔

ہمارے ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں درج ذیل نکات شامل ہوں گے :

* روس فائر بندی کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ اس سلسلے میں روسی وفد کو لیبیا بھیجا جائے گا۔

* فی الحال ترکی کی فوج کو طرابلس بھیجے جانے سے دوک دیا جائے گا۔ اس حوالے سے روس کے ساتھ سمجوتا ہو گیا ہے۔

* اقوام متحدہ بین الاقوامی فریق کی حیثیت سے فائر بندی کے عمل کی نگرانی کرے گا۔

*جنگ بندی میں "وفاق" کی فورسز اور لیبیا کی قومی فوج کا غیر مشروط انخلاء اور اپنی بیرکوں میں لوٹ جانا شامل ہے۔ مسئلے کا صرف سیاسی حل نکالا جائے گا۔

* بعض مسلح ملیشیائیں اپنے ہتھیار حوالے کر دیں گی۔

* ذمے داریوں اور اختیارات کو ایک جانب "وفاق" کی حکومت اور دوسری جانب لیبیا کی پارلیمنٹ اور فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کے بیچ تقسیم کیا جائے گا۔

* متعلقہ دستاویز پر خلیفہ حفتر اور فائز السراج دونوں کے دستخط ہوں گے۔ دستاویز سے پیچھے ہٹنا ممکن نہ ہو گا۔

* لیبیا کی قومی فوج کو ذمے داریاں سونپی جائیں گی۔ ان میں نمایاں ترین مشن انسداد دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی سرکوبی ہے۔ یہ مشن فائز السراج کے ساتھ رابطہ کاری سے پورا کیا جائے گا۔

* وفاق کی حکومت میں ترامیم شامل کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ابھی یہ ابتدائی مراحل میں ہیں۔

* لیبیا کے زمینی اور سمندری سرحدی راستوں کی بین الاقوامی نگرانی ہو گی۔ لیبیا کی قومی فوج تیل اور گیس کے کنوؤں کو محفوظ بنانے کی ذمے داری سنبھالے گی۔