.

ماسکو:لیبیا میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں پیش رفت، مگر سمجھوتا طے نہیں پایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے دارالحکومت ماسکو میں لیبیا میں غیر مشروط اور لامتناہی جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن جنگ زدہ ملک کے متحارب فریقوں میں کسی سمجھوتے پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے سوموار کو پہلے روز مذاکرات کے اختتام کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ تنازع کے بعض فریقوں نے جنگ بندی کے سمجھوتے پر دست خط کردیے ہیں لیکن لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والی قومی فوج ( ایل این اے) کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے اس معاملے پر غور کے لیے مزید وقت طلب کیا ہے۔

اس موقع پر ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے بھی کہا کہ خلیفہ حفتر نے ڈیل پر غور کے لیے منگل کی صبح تک کا وقت مانگا ہے۔

لیبیا کے متحارب فریقوں نے ماسکو میں بالواسطہ امن بات چیت کی ہے۔روس اور ترکی ان متحارب فریقوں پر لیبیا میں پائیدار جنگ بندی کے لیے زور دے رہے ہیں تاکہ جنگ زدہ ملک میں امن واستحکام کی راہ ہموار ہو۔

ان مذاکرات سے ایک روز قبل ہی لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت نے روس اور ترکی کی اپیل پر جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔ اس کے اس فیصلہ سے پہلے ہفتے کی شب لیبی قومی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے مشروط طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔

خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان قومی فوج اپریل 2019ء سے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے وزیراعظم فایزالسراج کے زیر کمان فوج اور ملیشیاؤں کے خلاف جنگ آزما ہے۔خلیفہ حفتر نے گذشتہ سال نومبر میں اپنے زیر کمان قومی فوج کو طرابلس کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا تھا۔ انھوں نے شہر میں موجود مسلح ملیشیاؤں کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی پیش کش بھی کی تھی۔