.

خلیفہ حفتر لیبیا میں جنگ بندی کے سمجھوتے پردستخط کیے بنا ہی ماسکو سے چل دیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبی قومی فوج ( ایل این اے) کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر روس کے دارالحکومت ماسکو سے منگل کے روز جنگ بندی سمجھوتے پر دست خط کیے بغیر ہی چل دیے ہیں۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے ان کے ماسکو سے واپس روانہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک لیبیا میں جنگ بندی سمجھوتے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔انھوں نے اعتراف کیا کہ فی الوقت لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔

تاہم روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے وزارتِ دفاع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایل این اے کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے ماسکو میں مذاکرات کے بعد وضع کیے گئے جنگ بندی سمجھوتے کے مسودے کے بارے میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے اس پر غور کے لیے دو دن کا وقت لیا ہے۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ خلیفہ حفتر کی جانب سے جنگ بندی سمجھوتے کی مستقل شرائط پر دست خط کے لیے مزید وقت طلب کرنے کے باوجود لیبیا کے متحارب فریقوں نے سیز فائر کو برقرار رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے سوموار کو مذاکرات کے اختتام کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ تنازع کے بعض فریقوں (وزیراعظم فایزالسراج کی حکومت) نے جنگ بندی کے سمجھوتے پر دست خط کردیے ہیں لیکن خلیفہ حفتر نے اس معاملے پر غور کے لیے مزید وقت طلب کیا ہے۔

لیبیا کے متحارب فریقوں نے ماسکو میں بالواسطہ امن بات چیت کی ہے۔روس اور ترکی ان متحارب فریقوں پر لیبیا میں پائیدار جنگ بندی کے لیے زور دے رہے ہیں تاکہ جنگ زدہ ملک میں امن واستحکام کی راہ ہموار ہو۔

ان مذاکرات سے ایک روز قبل ہی لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت نے روس اور ترکی کی اپیل پر جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔ اس کے اس فیصلہ سے پہلے ہفتے کی شب لیبی قومی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے مشروط طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔