.

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس کا ایران کے خلاف جوہری تنازع پر میکانزم فعال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے ایران کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ردعمل میں تنازع کے حل کا میکانزم فعال کردیا ہے لیکن ان تینوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں شامل نہیں ہورہے ہیں۔

ان تینوں یورپی ممالک نے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ ایران کے اقدامات کے پیش نظر ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا تھا۔آج ہم اپنی اس تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ ایران جوہری سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کررہا ہے۔اس لیے اس کا معاملہ جوہری سمجھوتے ( جامع لائحہ عمل ،جے سی پی او اے) کے پیراگراف 36 کے تحت تنازع کے حل کے میکانزم کے مطابق مشترکہ کمیشن کو بھیجا جارہا ہے۔

اس میکانزم کے تحت یورپی یونین اب جوہری سمجھوتے کے دوسرے فریق ممالک روس اور چین کے علاوہ ایران کو مطلع کرے گی۔اس کے بعد اختلافات کو سلجھانے کے لیے پندرہ دن کا وقت ہوگا۔ تاہم اس ڈیڈ لائن میں اتفاق رائے سے توسیع کی جاسکتی ہے۔

اس تمام عمل کے بعد اگر ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے تحت تنازع طے نہیں پاتا تو اس کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018ء کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

انھوں نے ایران پر دہشت گردوں اور اپنے آلہ کار غیرملکی گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔ان پابندیوں میں ایران کی تیل کی برآمدات ، جہاز رانی اور بنک کاری کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔ان کے نتیجے میں ایران کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایران نے تین جنوری کوعراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی مزید شرائط سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس ڈرون حملے کا حکم دیا تھا۔

اس نے کہا تھا کہ اب وہ یورینیم کو کسی قدغن کے بغیر افزودہ کرے گا۔البتہ اس نے واضح کیا کہ وہ ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے ( آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے پانچ جنوری کو ایک بیان میں کہا تھا کہ’’جوہری سمجھوتے کے تحت طے شدہ کسی تحدید کا احترام نہیں کیا جائے گا۔خواہ یہ یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے سینٹری فیوجز کی تعداد کا معاملہ ہو یا افزودہ یورینیم کی سطح یا ایران کی جوہری تحقیق وترقی سے متعلق سرگرمیاں ہوں، ان پرقدغنوں کے لیے شرائط کی پاسداری نہیں کی جائے گی۔‘‘