جرمنی: پانچ سالہ ننھی بچی کو دو سال بند کمرے میں رکھنے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

جرمنی کے پراسیکیوٹر جنرل نے ایک پانچ سالہ بچی کو اس کے اہل خانہ کی طرف سے مسلسل نظرانداز کرنے اور دو سال تک بند کمرے میں رکھنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

فرانکفرٹ کے پراسیکیوٹر جنرل نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پانچ سالہ بچی شمالی برلن میں ابرزفالدہ کے مقام پر ایک کمرے میں دو سال سے بند رکھا گیا جس کے نتیجے میں اس کی حالت کافی تشویشناک ہوگئی تھی۔ بچی نے دو سال تک سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔

اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کے بعد حکومت حرکت میں آئی اور بچی کو بازیاب کرانے کے بعد اسے گذشتہ برس دسمبر میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بچی کے ساتھ اس کے ایک بھائی کو بھی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ مقامی شہریوں اور حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کے والدین اور پورا خاندان سنہ 2007ء سے سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور ہے مگر ان کی جانب سے بچی کو نظرانداز کیےجانے کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقات کے بعد اس کی حقیقت سامنے آسکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں