.

ایران2015ء میں جوہری سمجھوتے سےقبل کی سطح سے زیادہ یورینیم افزودہ کررہا ہے:حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اب جولائی 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتا طے پانے سے قبل کی سطح (لیول) سے بھی زیادہ یورینیم افزودہ کررہا ہے۔ اس بات کا اعلان ایرانی صدر حسن روحانی نے جمعرات کو ایک نشری تقریر میں کیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ ہم ڈیل طے پانے سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ یورینیم کو افزودہ کررہے ہیں۔ایران پر دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے لیکن ہم پیش رفت جاری رکھیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ ایران نے مئی 2019ء میں جوہری سمجھوتے کی بعض شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس نے یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبرداری کے فیصلے سے ایک سال کے بعد کیا تھا۔

امریکی صدر نے مئی 2018ء میں اس جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اسی سال ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس کے نتیجے میں ایران کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایران نے امریکا کی کڑی پابندیوں کے ردعمل میں جوہری سمجھوتے کی شرائط خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنا شروع کردیا ہے۔اس کے جواب میں سمجھوتے کے فریق تین یورپی ممالک برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے منگل کے روز تنازع کے حل کا میکانزم فعال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ان تینوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں شامل نہیں ہورہے ہیں۔

ایران نے ان تینوں ممالک کو ان کے اس فیصلے پر سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس پر مزید پابندیاں عاید کرنے کے لیے کسی پیش رفت سے باز رہیں۔ البتہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا ہے کہ ’’ایران ایسی کسی بھی خیر سگالی اور تعمیری کوشش کا مکمل جواب دینے کو تیار ہے جس سے جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہو۔‘‘

مذکورہ تینوں یورپی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ’’ ایران کے اقدامات کے پیش نظر ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا تھا۔ہم اپنی اس تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ ایران جوہری سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کررہا ہے۔اس لیے اس کا معاملہ 2015ء طے شدہ جوہری سمجھوتے ( مشترکہ جامع لائحہ عمل ،جے سی پی او اے) کے پیراگراف 36 کے تحت تنازع کے حل کے میکانزم کے مطابق مشترکہ کمیشن کو بھیجا جارہا ہے۔‘‘