.

ادلب میں لڑائی کے باعث ساڑھے تین لاکھ افراد کی نقل مکانی: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس دسمبر سے شام کے ادلب صوبے میں روسی حمایت سے جاری اسد رجیم کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ساڑھے تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ادلب میں دو ماہ سے کم عرصے کے دوران ساڑھے تین لاکھ افراد ترکی کی سرحد کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں میں زیادہ تر بچے اور عورتیں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے رابطہ کار برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ لڑائی میں شدت کے نتیجے میں انسانی صورتحال بدستور خراب ہوتی جارہی ہے۔

شامی اپوزیشن کے زیرکنٹرول ادلب کے جنوبی علاقوں میں شامی رجیم اور اس کی معاون روسی افواج کی طرف سے گذشتہ برس دسمبر سے مسلسل فضائی حملے جاری ہیں۔ ادلب میں معرہ النعمان اور دوسرے علاقوں پرسابقہ النصرہ فرنٹ اور موجودہ 'تحریر الشام' محاذ کا کنٹرول ہے۔

شامی اور روسی فوج کی بمباری کے باعث نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر شہری شمالی ادلب، سراقب، اریحا اور ترکی کی سرحد کے قریب قائم پناہ گزین کیمپوں کا رخ کررہے ہیں۔ ان پناہ گزین کیمپوں میں پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگ رہ رہے ہیں۔