.

امریکا : عراقی پناہ گزین خاتون ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ الہان عمر کو شکست دینے کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں مقیم مسلمان عراقی پناہ گزین خاتون دالیا العقیدی کا کہنا ہے کہ وہ مینی سوٹا ریاست سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ الہان عمر کی باتوں سے تنگ آ چکی ہیں۔ دالیا کے مطابق الہان سیاسی شناخت کے معاملے کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں اور ایسی زبان کا استعمال کرتی ہیں جو دالیا کے نزدیک امریکا کو "تقسیم" کر رہا ہے۔ لہذا اب دالیا نے اپنی انتخابی مہم کا اعلان کر دیا ہے تا کہ نومبر میں وہ الہان عمر کو مات دے سکیں۔

امریکی چینل Fox News کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں دالیا کا کہنا تھا کہ "اسے (الہان عمر کو) روکنے کی ضرورت ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ مجھ میں اتنی طاقت ہے جو اسے شکست سے دوچار کرنے کے لیے کافی ہو"۔

ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والی دالیا القیدی ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ الہان عمر کی نشست حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں۔

دالیا نے انتخابی مہم میں شناخت کی پالیسی استعمال کرنے پر نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "مسلمان، مسیحی اور یہودی سب ہی امریکی ہیں"۔

دالیا کے مطابق الہان جب بھی اپنی زبان کھولتی ہیں تو وہ امریکا دشمنی یا یہود دشمنی میں کچھ نہ کچھ ضرور کہتی ہیں۔ دالیا نے کہا کہ "میں اس ملک کی وفادار ہوں جس نے مجھے موقع فراہم کیا اور زیادہ روشن مستقبل دیا"۔ انہوں نے کہا کہ الہان عمر مسلسل ملک کو کمزور کرنے اور اسے تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

دالیا العقیدی کو صحافت کے میدان میں 31 سال کا تجربہ ہے۔ اس دوران انہوں وائٹ ہاؤس میں "الحُرّہ" چینل کی نمائندہ کے طور پر بھی کام کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس تمام عرصے میں انہوں نے جو بات سیکھی وہ یہ ہے کہ "اپنے حریف پر باقاعدگی کے ساتھ تنقید اور نکتہ چینی کرنا یہ سیاست میں کوئی مؤثر اور کارگر حکمت عملی نہیں ہے .. البتہ تنازع کا حل ایک فن ہے .. بات چیت اور مکالمے کے بغیر آپ کچھ نہیں کر سکتے .. دوسرے فریق کی اہانت آپ کو ہر گز کامیاب نہیں کرے گی"۔

اپنے انتخابی پروگرام کے حوالے سے دالیا العقیدی کا کہنا تھا کہ ان کی بنیادی توجہ کا مرکز اندرون و بیرون ملک امن و امان، معیشت اور تعلیم ہے۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ شان دار طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق الہان عمر کا مقابلہ کرنے کے خواہش مند امیدواروں کا ایک بڑا مجموعہ ہے۔

الہان عمر کو اپنی ڈٰیموکریٹک پارٹی اور حریف ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کی جانب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔