لیبیا کی اہم شخصیات کی سیکیورٹی ترک ایلیٹ فورس کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے لیے ترکی کی طرف سے فوجی امداد کے تسلسل میں ذرائع نے العربیہ اور الحدث چینلوں کو بتایا ہے کہ طرابلس کی اہم حکومتی شخصیات کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ترکی کی ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو سونپی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تُرکی شامی عسکریت پسند گروہوں کے عناصر کو لیبیا میں لڑنے کے لیے جنگی تربیت دے رہا ہے۔ ترکی کی شہریت رکھنے والے شامی باشندے لیبیا میں جنگی گروپوں کی قیادت کررہے ہیں۔ ترکی کی خصوصی دستے الوفاق حکومت میں شامل شخصیات کے تحفظ کے لیے طرابلس پہنچ گئے ہیں اور انہیں اہم شخصیات کی سیکیورٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حمزہ العمر ایک شامی شہری ہے جس نے تقریبا سات ماہ قبل ترکی کی شہریت حاصل کی تھی۔ اسے لیبیا میں بھیجا گیا ہے جو شامی عسکریت پسندوں کی رہنمائی پر مامور ہے۔

ذرائع نے العربیہ کو مزید بتایا کہ ترکی نے شام کے چار گروپوں کو عسکری تربیت فراہم کی ہے۔ ہر گروپ 35 جنگجوئوں پر مشتمل ہے۔ انہیں شہروں کے اندر گوریلا لڑائی کی خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ شامی جنگجوئوں کو ترکی میں مختلف تربیتی کورسز کے عمل سے گذارا جاتا ہے۔ بعض کو 14 دن تک تربیت دی گئی۔ کچھ جنگجوئوں کو 21 اوربعض کو45 دن کی ٹریننگ دی گئی۔ انہیں اسٹریٹ وار کی خصوصی تربیت دی گئی تاکہ جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کے طرابلس میں داخلے کے بعد دو بہ دو لڑائی میں اس کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ترکی میں جنگی تربیت پانے والے جنگجوئوں میں کئی ایسے عناصر بھی ہیں جو ماضی میں بھی ٹریننگ لے چکے ہیں۔ انہیں ترکی میں ازمیر کیرشھر اور کوچا کے مقامات پر قائم کیمپوں میں تربیت دی جاتی ہے۔

ذرائع نے ترکی اور الوفاق حکومت کے مابین ہونے والے معاہدے کے بارے میں بات کی جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ انقرہ لیبیا کے علاقوں کے اندر ترک فوجی دستوں کی موجودگی کے پورے عرصے کے لیے رقوم حاصل کرے گا۔ترکی نے خشکی اور پانی میں لڑنے والے میرینز کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ طرابلس حکومت کو نیشنل آرمی طرف سےلاحق خطرات کا مقابلہ کرنے میں اس کی مدد کی جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں