.

لیبیا میں تیل کی پیداوار کی بندش،برلن میں غیر ملکی طاقتوں کے متحارب فریقوں سے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے متحارب فریق اور ان کے پشتیبان جرمنی کے دارالحکومت برلن میں اتوار کے روز مذاکرات کررہے ہیں۔وہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے جاری لڑائی اور تیل کی بندش کے خاتمے کے لیے تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ گذشتہ سال اپریل سے جاری اس لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور ملک کی خام تیل کی پیداوار گھٹ کر نصف رہ گئی ہے۔

ان مذاکرات کے میزبان جرمنی اور اقوام متحدہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ روس ، ترکی، متحدہ عرب امارات اور مصر کو لیبیا کے متحارب فریقوں پر طرابلس میں جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس ایک روزہ اجلاس میں امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور یورپی اور عرب ممالک کے لیڈر بھی شرکت کررہے ہیں۔

مغربی طاقتیں لیبیا کی قومی فوج ( ایل این اے) کے کمانڈر خلیفہ حفتر پر طرابلس میں جاری جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔لیبی قومی فوج اور طرابلس میں وزیراعظم فایزالسراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے سے جنگ بندی جاری ہے۔

اس کو مستقل طور پر برقرار رکھنے کے لیے گذشتہ سوموار کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں بھی مذاکرات ہوئے تھے لیکن ان کے بعد لیبی قومی فوج ( ایل این اے) کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفترجنگ بندی کے سمجھوتے پر دست خط کیے بغیر ہی واپس آ گئے تھے جبکہ ان کے حریف وزیراعظم فایزالسراج کی حکومت) نے جنگ بندی کے سمجھوتے پر دست خط کردیے تھے۔

لیبیا کے متحارب فریقوں نے ماسکو میں بالواسطہ امن بات چیت کی تھی۔روس اور ترکی ان متحارب فریقوں پر لیبیا میں پائیدار جنگ بندی کے لیے زور دے رہے ہیں تاکہ جنگ زدہ ملک میں امن واستحکام کی راہ ہموار ہو۔

ان مذاکرات سے ایک روز قبل ہی لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت نے روس اور ترکی کی اپیل پر جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔ اس کے اس فیصلہ سے قبل خلیفہ حفتر نے مشروط طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔

تیل کی پیداوار کی بندش

لیبی قومی فوج نے جمعہ کو مشرقی بندرگاہوں سے تیل کی ترسیل بند کردی ہے جس سے تیل کی پیداوار آٹھ لاکھ بیرل یومیہ کم ہو کررہ گئی ہے۔اس سے طرابلس میں قومی اتحاد کی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگا کیونکہ وہی تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدن سے زیادہ فائدہ اٹھا رہی تھی۔

قطر نے لیبیا کے مشرق میں واقع تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہ زیتینہ پر دھاوے اور اس کی بندش کی مذمت کی ہے۔

برلن اجلاس کے اختتامی اعلامیے کے مجوزہ مسودے میں لیبیا کے متحارب فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تیل کی تنصیبات پر حملوں سے گریز کریں۔اس میں طرابلس میں قائم لیبیا کی قومی تیل کمپنی این او سی کو تیل کی فروخت کی واحد مجاز تسلیم کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں