.

دنیا کے پستہ قد شخص کا 27 سال کی عمر میں انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیپال سے تعلق رکھنے والے دنیا کے سب سے چھوٹے قد کا حامل شخص کھگیندرا تھاپا ماگر کل کھٹمنڈو کےایک اسپتال میں انتقال کرگیا۔ اس کی عمر 27 سال تھی اور وہ کچھ دنوں سے نمونیا کا شکار تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق کھگیندرا تھاپا ماگر کا قد صرف دو فٹ اور دو عشاریہ چار ایک انچ تھا۔ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق چلنے کے قابل کسی بھی شخص کا سب سے کم قد ہے۔

کھگیندرا تھاپا ماگر کھٹمنڈو سے 200 کلو میٹر دور بوخارا شہرمیں اپنے خاندان کے ہمراہ رہ رہے تھے۔

لواحقین کے مطابق ان کا انتقال جمعہ 17 جنوری کو نیپال کے ایک اسپتال میں ہوا۔ کھگیندرا تھاپا ماگر کےبھائی مہیش تھاپا ماگرا نے بتایا کہ کھگیندرا کوکئی بار نمونیا کا اٹیک ہوا مگر اس بار اس بیماری نے اس لے دل پربھی حملہ کیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

سنہ 2010ء کو جب کھگیندرا تھاپا ماگر 18 ویں سالگرہ منا رہے تھے ان نام زمین پر چلنے والے دنیا کے پست قد شخص کے طور پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔

تاہم ان کا یہ اعزاز زیادہ عرصے تک نہیں رہا۔ انہی کے ہم وطن شاندرا بہادر ڈانگی جس کھگیندرا تھاپا ماگر سے بھی قد میں چھوٹے تھے یہ اعزاز چھین لیا۔ شاندرا کا قد 54 اعشاریہ 6 سیٹنی میٹر تھا۔ شاندرا 2015ء کو انتقال کرگئے جس کے بعد کھگیندرا کو یہ سب سے چھوٹے قد کا لقب پھر سےمل گیا۔

آنجہاںی کھگیندرا تھاپا ماگر کے والد روپ بھادور کا کہنا ہےکہ جب کھگیندرا پیدا ہوا تو اسے ہتھیلی پر اٹھایا جاسکتا تھا۔ اس کو نہلانے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔

ان کا قد چھوٹا مگر حوصلہ بہت بلند تھا۔ انعام ملنے کے بعد انھوں نے کہا تھا، ’میں خود کو چھوٹا انسان نہیں سمجھتا۔ میں بڑا انسان ہوں۔ مجھے امید ہے کہ یہ اعزاز میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک اچھے گھر کے حصول میں مددگار ہوگا۔