.

ترکی نے فوجی نہیں،صرف مشیر لیبیا میں بھیجے ہیں: صدر طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ابھی تک صرف فوجی مشیر اور تربیتی عملہ لیبیا بھیجا ہے اور اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ وزیراعظم فایزالسراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت میں اپنے فوجیوں کو اس ملک میں روانہ نہیں کیا ہے۔

صدر ایردوآن سوموار کو برلن میں لیبیا میں قیام امن کے لیے اتوار کو منعقدہ ایک روزہ کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آتے ہوئے اپنے ہمراہ طیارے میں سوار صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ برلن کانفرنس میں ترکی کی کوششوں کے نتیجے میں لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے کام کی بنیاد پڑی ہے۔

نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق لیبیا میں ترکی کی موجودگی سے امن کے لیے توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے خود صدر طیب ایردوآن ہی کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ترکی نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں اپنے فوجیوں کو بھیجنا شروع کردیا ہے۔وہ قبل ازیں بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ترکی لیبیا میں اپنے فوجی تعینات کرے گا۔

ترک پارلیمان نے دو جنوری کو لیبیا میں قومی اتحاد کی حکومت کی مدد کے لیے فوجی بھیجنے کی منظوری دی تھی اور پارلیمان کے 325 میں سے 184 ارکان نے لیبیا میں ایک سال کے لیے فوجی تعینات کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ترک فوجیوں کو لیبیا میں وزیراعظم فایزالسراج کی حکومت کی حمایت میں بھیجنے کے بارے میں ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس سے جنگ زدہ ملک میں تنازع کو مزید ہوا ملے گی لیکن ترکی کا کہناہے کہ اس کو لیبیا اور بحرِ متوسط کے مشرقی علاقے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں