لیبیا میں ترکی کی مداخلت علاقائی تنازعات بھڑکانے کا باعث بن سکتی ہے: ابو الغیط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد بو الغیط نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں ترکی کی مداخلت سے خطے میں جاری بحران مزید پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے نتیجے میں علاقائی تنازعات مزید بھڑک سکتے ہیں

ایک مصری ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں احمد ابو الغیط نے کہا کہ برلن کانفرنس میں لیبیا میں دیرپا امن کے لیے غیر ملکی مداخلت روکنے کی بات کی گئی۔ کانفرنس کے شرکاء نے لیبیا میں انقرہ کی مداخلت کو مسترد کردیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں الغیط کا کہنا تھا کہ برلن کانفرنس میں ترکی کا موقف دیگر تمام عالمی رہ نمائوں سے موقف سے مختلف تھا۔ ترکی نے باغی فوج کی طرف سے جاری آپریشن کوقومی وفاق حکومت پر'حملہ' قرار دیا۔ ان کما کہنا تھا کہ برلن کانفرنس میں 55 نکات شامل کیے گئے ہیں اور ان تمام پرعمل درآمد کرنا ضروری ہے۔

ابو الغیط نے کہا کہ برلن کانفرنس میں تمام ممالک نے لیبیا میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کی۔

عرب لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ لیبیا کی علاقائی اور عالمی اہمیت کے پیش نظر اس مسئلے کے حل کے لیے یورپی یونین، عرب لیگ، خطے کے ممالک بالخصوص مصر کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیبیا اور مصر کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ لیبیا میں دہشت گرد ملیشیائوں کی موجودگی مصر کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں امن وامان کے قیام کی واپسی کے لیے ہونے والے برلن معاہدے پر ہرایک کو عمل درآمد کرنا چاہیے۔ انہوں نے لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسام سلامہ کی تجاویز سے بھی اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں