.

لیبیا نے داعش کے مقتول جنگجوئوں کے چھ بچے تیونس کے حوالے کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا نے اپنی سرزمین پر لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے 'داعش' کے جنگجوئوں چھ بچوں کو تیونس کے حوالے کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'داعش' میں شامل ہونے کے بعد لیبیا میں مارے جانے والے تیونسی شدت پسندوں کے 42 بچے لیبیا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے لواحقین کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے چھ بچوں کی شناخت کا عمل مکمل کرنے کے بعد انہیں تیونس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

تیونس آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفی عبد الکبیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا میں ہلاک ہونے والے 'داعش' کے جنگجوئوں 6 بچے تیونس کے حوالے کیے گئے ہیں۔ ان بچوں کی عمریں 6 سے 12 سال کی عمر کے درمیان ہیں۔

عبد الکبیر نے مزید کہا کہ داعشی بچوں کی حوالگی کے لیے ڈیڑھ سال سے تیونسی حکام اور مصراتہ میں کام کرنے والی ریڈ کریسنٹ کے تعاون سے عمل میں لایا گیا۔ ریڈ کرینسٹ 'داعش' کے مقتول جنگجوئوں کے بچوں کی کفالت کرتی ہے۔ داعشی جنگجوئوں کی تیونس کو حوالگی سے قبل ان کی شناخت عمل مکمل کیا گیا۔ ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اس کی روشنی میں ان کی شناخت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کے شہر مصراتہ میں 15 داعشی بچے اپنی مائوں کے ساتھ ہیں جب کہ طرابلس کی معیتیقہ جیل میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عبدالکبیر کا کہنا تھا کہ 'داعشی' جنگجوئوں کے بچوں کی تیونس حوالگی میں دیگر مشکلات میں ایک پیچیدگی مائوں کا بچوں کو نہ چھوڑنا بھی ہے۔ داعشی جنگجوئوں کی بیویاں بچوں کو چھوڑنے اور ان کی تیونس حوالگی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2016ء کی سرت کی لڑائی کے دوران تیونس سے تعلق رکھنے والے 'داعشی' جنگجوئوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوگئی تھی۔ ان کے خاندان لیبیا میں پھنس گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ لیبیا نے متعدد بار تیونس سے کہا ہے کہ وہ 'داعش' کے مقتول کمانڈروں کے بچوں کو واپس لے مگر دہشت گردی میں ملوث عناصر کے بچوں کو وصول کرنے میں تیونسی حکام بھی کتراتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا ہے کہ 'داعشی' کمانڈروں کے بچوں کا کوئی قصور نہیں۔ ان کے والدین دہشت گردی میں ملوث تھے مگر بچے دہشت گرد نہیں ہیں۔