.

سعودی عرب میں کرونا وائرس کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا : وزیر صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اب تک مہلک وائرس کرونا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔

سعودی وزیر صحت توفیق الربیعہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت میں اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پیشگی حفاظتی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔چین سے بالواسط یا بلا واسطہ آنے والے مسافروں کی سکریننگ کی جارہی ہے۔.

انھوں نے کہا کہ ’’ ہوائی اڈوں پرقائم کلینکوں پر تعینات عملہ چین سے آنے والے تمام مسافروں کا معائنہ کررہا ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ یہ مہلک وائرس متاثرہ شخص کے ساتھ چھونے اور تھوک سے پھیلتا ہے۔انھوں نے تمام شہریوں اور مکینوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے کس شخص کے نزدیک جانے سے گریز کریں ، جس کو سانس لینے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہو۔

واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے کرونا وائرس کی موجودگی کا پتا چلا تھا۔اس کے بعد سے اس سے چھیالیس افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اس وائرس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگلی جانوروں سے پھیلا ہے۔ چین میں جنگلی جانوروں کا گوشت خوراک اورادویہ میں عام استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ مہلک وائرس اب چین سے باہر ممالک امریکا ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، جاپان ، ویت نام اور فرانس میں بھی پھیل چکا ہے۔ متعدد ممالک نے چین سے آنے والی تمام براہ راست یا بالواسطہ پروازوں کے لیے پیشگی حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔اس اقدام کے تحت چین سے پروازوں کے ذریعے آنے والے مسافروں کی ہوائی اڈوں پر سکریننگ کی جارہی ہے۔

چینی صدر شی جین پنگ نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ چین کو سارس کی طرح کا نیا وائرس پھیلنے کے بعد سے سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ چینی حکام نے اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سب سے متاثرہ شہر ووہان کا ملک کے دوسرے علاقوں سے زمینی اور فضائی ٹریفک کے ذریعے رابطہ منقطع کردیا ہے اور اس کے مکینوں کو کہیں اور جانے کی اجازت نہیں ہے۔