.

ترکی کے فوجیوں کا طرابلس پہنچنے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دو بحری جنگی جہاز (فرائیگیٹ) تُرک فوجیوں کو لے کر بدھ کو علی الصبح لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی بندرگاہ پہنچ گئے۔

مذکورہ دونوں جنگی جہازوں کے ساتھ ایک کارگو جہاز بھی تھا جس میں سے فوجی ٹینکوں اور ٹرکوں کو بندرگاہ پر اتارا گیا۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے لیبیا میں وفاق حکومت کی سپورٹ کا ارادہ رکھنے کے اعلان کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی پیش رفت ہے۔ واضح رہے کہ برلن کانفرنس میں ایردوآن نے باور کرایا تھا کہ وہ لیبیا میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ ترک فوجیوں یا اجرتی جنگجوؤں کو وہاں بھیجیں گے۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق طرابلس کی بندرگاہ پہنچنے والے دونوں جہازوں کے نام "غازی عنتاب" اور "قيديز" ہے۔

نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ عسکری ساز و سامان اور گولہ بارود کو دارالحکومت طرابلس کے وسط میں معیتیقہ کے فضائی اڈے پہنچا دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ لیبیا میں لڑائی کے لیے شامی جنگجوؤں کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے دارالحکومت طرابلس پہنچنے والے اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 1750 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

ادھر لیبیا میں وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج نے سال 2020 کے ریاستی بجٹ میں سے ایک ارب لیبیائی دینار (80 کروڑ ڈالر) کی رقم "طرابلس میں جنگی اخراجات" کے واسطے وزارت دفاع کے لیے مختص کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں