.

بھارت میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا میں چین میں پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

بھارتی حکومت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ طالب علم چین میں ووہان یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔اس کو ایک اسپتال میں الگ تھلگ رکھا جارہا ہے اوراس کی حالت اب بہتر ہے۔

بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا ہے کہ ’’کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ چینی شہر ووہان سے بھارتی شہریوں کی واپسی کوئی بہتر آپشن نہیں ہے کیونکہ ان کی ملک واپسی کی صورت میں مہلک وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے لیکن ان شہریوں، جن میں زیادہ تعداد طلبہ کی ہے اور ان کے والدین کی جانب سے حکومت پر یہ دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ ایک طیارے کو تیار رکھا جائے تاکہ ووہان میں پھنسے ہوئے بھارتی شہریوں کو واپس لایا جاسکے۔‘‘

بھارتی حکومت نے اس ہفتے کے دوران میں قومی فضائی کمپنی کےایک طیارے کو ووہان بھیجنے کے لیے تیار رکھا تھا لیکن وہ چینی حکام کی جانب سے طیارے کو اترنے کی اجازت ملنے کا منتظر ہے۔

اس بھارتی اعلیٰ عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرمزید کہا ہے کہ ’’صرف ان شہریوں کو واپس لایا جائے گا جو کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہیں۔انھیں واپسی پر دارالحکومت دہلی کے نواح میں ایک طبی مرکز میں منتقل کیا جائے گا اور وہاں الگ تھلگ رکھا جائے گا۔‘‘

بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان کے چین میں زیر تعلیم چار طلبہ بھی مہلک کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔چین میں پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ان میں پانچ سو سے زیادہ طلبہ ووہان میں مقیم ہیں۔ان ہی میں سے چار طلبہ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے کی تشخیص ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ اس نئے وائرس سے اب تک چین میں170 اموات ہوچکی ہیں۔چین اور دوسرے ممالک میں اس سے 7700 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔اس مہلک وائرس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چین کے وسطی شہر ووہان میں جنگلی جانوروں کی مارکیٹ سے پھیلا ہے۔وہاں سے یہ انسانوں میں منتقل ہوا اور پھر پورے ملک اوراس سے باہر پھیل گیا ہے۔

اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے بعد چینی حکام نے ووہان اور ملک کے دوسرے حصوں کے درمیان ٹرانسپورٹ کے زمینی اور فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں اور یہ شہر ملک کے باقی حصوں سے ایک طرح سے کٹ کررہ گیا ہے۔

چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے جنوبی ایشیا کے ممالک کی حکومتوں سے ووہان اور دوسرے شہروں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں جبکہ امریکا اور جاپان ایسے ممالک نے اپنے شہریوں کو پروازوں کے ذریعے نکالنا شروع کردیا ہے۔