.

ترکی داعش کے عناصر کو لیبیا کے ساحلوں پر پہنچا رہا ہے: المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج نے ایک بار پھر ترکی پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ داعش اور القاعدہ کے عناصر کو لیبیا منتقل کر رہا ہے۔

لیبیا کی نیشنل آرمی کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ لیبیا میں مصراتہ شہر کی سرحد اور اسی طرح تیونس کی سرحد پر ترکی کے عسکری عناصر کے حمایت یافتہ شامی اجرتی جنگجوؤں کی موجودگی کا علم ہوا ہے۔

المسماری نے واضح کیا کہ ترکی ،،، داعش اور القاعدہ کے ارکان کی لیبیا کے ساحل پر موجودگی کو ممکن بنا رہا ہے اور ان عناصر کا ایک حصہ ممکنہ طور پر یورپ منتقل ہو جائے گا۔

ترجمان کے مطابق ترکی کی جانب سے لیبیا کے مغربی حصے میں لائے جانے والے اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

المسماری نے بتایا کہ شامی اجرتی جنگجوؤں نے دارالحکومت طرابلس کے اسکولوں میں اپنے مراکز بنا لیے ہیں۔

اس سے قبل العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے نے بتایا تھا کہ ترکی کے دو بحری جنگی جہاز (فرائیگیٹ) تُرک فوجیوں کو لے کر بدھ کو علی الصبح لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی بندرگاہ پہنچ گئے۔ مذکورہ دونوں جنگی جہازوں کے ساتھ ایک کارگو جہاز بھی تھا جس میں سے فوجی ٹینکوں اور ٹرکوں کو بندرگاہ پر اتارا گیا۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے لیبیا میں وفاق حکومت کی سپورٹ کا ارادہ رکھنے کے اعلان کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی پیش رفت ہے۔ واضح رہے کہ برلن کانفرنس میں ایردوآن نے باور کرایا تھا کہ وہ لیبیا میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ ترک فوجیوں یا اجرتی جنگجوؤں کو وہاں بھیجیں گے۔