.

ہم عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کریں گے : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک عراق میں موجود فوجیوں کی تعداد کم کرنے جا رہا ہے۔ بدھ کی شام اپنی ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ "عراق میں جنگ سے متعلق قرارداد پر جمعرات کے روز ایوان نمائندگان میں رائے شماری ہو گی ،،، ہم اپنے فوجیوں کی تعداد 5 ہزار تک (نیچے) لا چکے ہیں اور اس تعداد کو (مزید) کم کریں گے ... میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس سب سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ (اس حوالے سے) دل سے ووٹ دیں"۔

واضح رہے کہ آج جمعرات کے روز امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرار داد کے بل پر رائے شماری ہو رہی ہے۔ اس کا مقصد عراق میں طاقت کے استعمال کے اختیار کو ختم کرنا ہے۔ فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق قانون AUMP سال 2002 میں منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد یہ تھا کہ 2003 میں عراق کے خلاف امریکی حملے اور جنگ کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔

واشنگٹن نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا جس میں عراقی پارلیمنٹ کی موافقت کے بعد عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ مطالبہ 3 جنوری کو بغداد کے ہوائی اڈے پر امریکی حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔ حملے میں ایرانی القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کا نائب سربراہ ابو مہدی المہندس مارا گیا تھا۔

ٹرمپ نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات کے مقابل بغداد پر مالی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

دوسری جانب شام کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے جیمس جیفری کا کہنا ہے کہ "ہم عراقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر وسیع پیمانے پر بات چیت کے خواہاں ہیں تا کہ بغداد کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی مکمل حکمت عملی کو زیر بحث لایا جائے"۔

جیفری نے بدھ کے روز رائٹرز ایجسنی سے گفتگو میں مزید کہا کہ امریکا اس بات کے امکان کو سپورٹ کرتا ہے کہ نیٹو اتحاد مستقبل میں عراق اور شام میں اپنا کردار ادار کرے۔

عراقی حکومت کے ساتھ بات چیت کے وقت کے حوالے سے امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ "کسی کو کسی بات کی جلدی نہیں ہے۔ ہم نیٹو اتحاد کی کارروائی میں انتہائی دل چسپی رکھتے ہیں جس کے ذریعے دیکھا جا سکے کہ وہ کون سا اضافی کردار ادا کر سکتا ہے"۔