.

ترکی نے لیبیا کی حکومت کو فضائی دفاعی نظام اور کرائے کے جنگجو فراہم کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے لیبیا میں فائز السراج کی قیادت میں قائم متنازع قومی وفاق حکومت کو اسلحہ اور افرادی قوت کی شکل میں امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

العربیہ اور الحدث چینلوں کو لیبی ذرائع نے بتایا کہ ترک کمپنیاں فائز السراج کی سربراہی میں قائم لیبیا کی الوفاق حکومت کو بڑی تعداد میں اسلحہ فروخت کرتی ہیں۔ انقرہ نے طرابلس میں نئے تربیتی کیمپ بنائے ہیں اوران کیمپوں میں ترک افواج کے لئے ایک آپریشن روم، ٹریننگ کے لیے آئے ترک فوجی افسران کے لیے ایک رہائش گاہ اور ترک فوج کے ساتھ ایک مکمل رابطہ یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ترکی نے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کردیا ہے۔

مانیٹرنگ چوکیوں کا قیام

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی کے 400 فوجی انجینیرز نے مانیٹرنگ کے لیے مختلف مقامات پر چوکیاں قائم کی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبیا کی قومی فوج کی طرف سے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے لیبیا کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

العربیہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ترک انٹلیجنس کے سربراہ ودال ہاکان نے گذشتہ دنوں طرابلس کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ ترکی کے جنرل اسٹاف کی نگرانی میں انقرہ سے طرابلس کو اسلحہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

خطرناک جنگجوئوں کا ترکی کے اسپتالوں میں علاج

ذرائع نے العربیہ چینل کو بتایا کہ ترکی نے القاعدہ اور انصار الشریعہ جیسے شدت پسند گروپوں سے تلعلق رکھنے والے جنگجوئوں کا اپنے ہاں اسپتالوں میں علاج بھی شروع کر رکھا ہے۔ زخمی ہو کرآنے والے جنگجوئوں کو انقرہ، استنبول اور ترکی کے دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے۔ ایسے دسیوں جنگجو جو لیبیا میں قومی فوج کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہوئے تھے انہیں ترکی کے اسپتالوں میں علاج کے لیے لایا گیا ہے جہاں ان کا مفت علاج کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ترکی نے نہ صرف شام بلکہ افریقی ملکوں صومالیہ اور کینیا سے بھی جنگجو لیبیا منتقل کیے ہیں۔

ہتھیاروں کے نئے گودام

ذرائع کے مطابق الوفاق حکومت نے ترکی سے آنے والے نئے ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے نئے گوداموں کی تعمیر شروع کی ہے۔ شام اور ترکی کے عناصر ان گوداموں کو محفوظ بنانے کے انچارج ہیں۔

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایسے شامی جنگجو جنہیں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے عسکری تربیت فراہم کی تھی لیبیا منتقل کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کے تربیت یافتہ جنگجوئوں اور شدت پسندوں کو بھی لیبیا منتقل کیا گیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی نے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ طرابلس میں ترکی کے ایک فوجی اڈے کے قیام کے لیے مذاکرات شروع کیے ہیں۔