.

لیبیا میں بحری جہاز سے ترک اسلحہ اتارے جانے کی ویڈیو اور تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج کی طرف سے ایک فوٹیج اور تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں ترکی سے اسلحہ اور فوجی ساز وسامان لے کر آنے والے ایک بحری جہاز کو طرابلس کی بندرگاہ پر ’’ان لوڈ‘‘ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ترکی سے یہ سامان حرب لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو بھیجا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری جمعرات کو فیس بک پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ ترکی سے آیا ایک مال بردار جہاز 28 جنوری بروز منگل طرابلس کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا اور اس میں موجود حربی سامان بندرگاہ پر اتارا گیا۔ لیبیا کی نیشنل آرمی نے ترک بحری جہاز کی آمد اور اس سے اتارے جانے والے سامان کی نشاندہی اور تصدیق کی ہے۔

المسماری نے کہا کہ ترکی کی طرف سے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے لیے اسلحہ اور دیگر سامان کی فراہمی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترکی کے اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انقرہ، لیبیا کے مغربی علاقوں میں طے پائی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

فرانس نے بحر متوسط کے مشرقی حصے میں ترکی کی حالیہ مہم جوئی کے ردعمل میں اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹکیس نے فرانس کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترکی کی اس کے ہمسایہ ممالک یونان اور قبرص کے ساتھ بحر متوسط میں تیل اور گیس نکالنے اور معدنیات کی تلاش کے معاملے پر کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ترکی نے بحر متوسط کی حدود میں ڈرلنگ کے لیے جہاز بھیجے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ علاقہ قبرص کا ملکیتی تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ترک جمہوریہ شمالی قبرص ان علاقوں پر دعوے دار ہے مگر اس ریاست کو صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔

یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹکیس نے کہا ہے کہ فرانسیسی بحری جہاز علاقے میں ’’امن کے ضامن‘‘ ہوں گے۔ ان کے بقول ’’یونان اور فرانس اب تزویراتی دفاع کے ایک نئے فریم ورک پرعمل پیرا ہیں۔‘‘

انھوں نے پیرس کے دورے کے موقع پر فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ’’بحر متوسط کے مشرق میں اختلافات کا خاتمہ صرف بین الاقوامی انصاف کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ترکی نے نومبر میں اقوام متحدہ کی جانب سے قانونی تسلیم کی جانے والی فائز السراج حکومت کے ساتھ ایک معاہدے دست خط کیے تھے۔اس کے تحت ترکی بحر متوسط کے جنوبی ساحلی علاقے سے لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے تک ایک خصوصی اکنامک زون قائم کرے گا۔ یونان اور قبرص نے اس سمجھوتے کو سمندر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ان دونوں ملکوں کا ایک عرصے سے ترکی کے ساتھ سمندری اور علاقائی حدود پر تنازع چلا آ رہا ہے۔

اس ڈیل کو یورپی یونین، مصر اور جی این اے کی مخالف مشرقی شہر بنغازی میں قائم حکومت نے مسترد کردیا تھا۔ فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے بدھ کو ایک بیان میں ترکی اور لیبیا کے درمیان اس ڈیل پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ترکی نے جی این اے کی حکومت کی حمایت میں طرابلس میں اپنے فوجی بھیجے ہیں اور اس پر شام سے بحری جہازوں کے ذریعے جنگجوؤں کو لیبیا منتقل کرنے کا بھی الزام عاید کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی صدر ماکروں نے اپنے جنگی بحری جہاز بحرِ متوسط میں بھیجنے کے اعلان سے قبل ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن پر لیبیا کے بارے میں اپنا وعدہ پورا نہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ ان کے بقول ترک صدر نے عالمی لیڈروں سے لیبیا میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔