.

سلامتی کونسل: برطانیہ کی قرارداد میں لیبیا سے اجرتی جنگجوؤں کے انخلاء کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ترمیم شدہ قرارداد پیش کی ہے جس میں لیبیا سے اجرتی جنگجوؤں کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد میں لیبیا میں اجرتی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے داخلے کے حوالے سے (سلامتی کونسل کی) تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

قرارداد میں ان بین الاقوامی پاسداریوں کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جن کا وعدہ 19 جنوری کو برلن کانفرنس میں کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد 2011 سے لیبیا پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کا احترام ہے۔ اس میں مسلح اجرتی جنگجوؤں کو پیش کی جانے والی تمام تر سپورٹ کا روکا جانا اور ان عناصر کا اںخلاء شامل ہے۔

قرارداد کا متن تمام رکن ممالک سے تنازع میں عدم مداخلت کا یا ایسے اقدامات سے گریز کا مطالبہ کرتا ہے جس سے تنازع کی شدت میں اضافہ ہو۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ روس اس قرارداد میں اجرتی جنگجوؤں کی جانب کسی بھی اشارے کی شدت سے مخالفت کر سکتا ہے۔ قرارداد پر رائے شماری کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی۔

برطانیہ کی جانب سے 24 جنوری کو پیش کردہ قرارداد کے پہلے مسودے میں غیر ملکی مسلح جنگجوؤں کی جانب کوئی اشارہ شامل نہیں تھا۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے غسان سلامہ نے جمعرات کے سلامتی کونسل کے سامنے ایک بار پھر لیبیا میں غیر ملکی مسلح جنگجوؤں کی موجودگی کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے جنگجوؤں کی شناخت کا تعین نہیں کیا۔

روس نے جو خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبیا کی قومی فوج کو سپورٹ کر رہا ہے اس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ الزامات کے مطابق روس نے اُن ہزاروں اجرتی جنگجوؤں کی لیبیا پہنچنے میں مدد کی جن کا تعلق روسی ویگنر گروپ سے ہے۔

دوسری جانب لیبیا میں فائز السراج کے زیر قیادت وفاق حکومت کو سپورٹ کرنے والے ترکی پر الزام ہے کہ اس نے شامی جنگجوؤں کو لیبیا بھیجا۔ ان جنگجوؤں کی آخری کھیپ گذشتہ ہفتے پہنچی تھی۔

گذشتہ برس دسمبر میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ماہرین نے لیبیا میں مسلح جماعتوں کی موجودگی کی جانب اشارہ کیا تھا جو لیبیا میں دونوں فریقوں کے مفاد میں لڑ رہی ہیں۔ ان میں بالخصوص سوڈان اور چاڈ کی جماعتیں شامل ہیں۔

خلیفہ حفتر کی نیشنل آرمی نے گذشتہ برس اپریل میں دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی حملہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سے سلامتی کونسل کے ارکان لیبیا کے حوالے سے کسی قرارداد پر متفق نہیں ہو سکے۔

برطانیہ کی ترمیم شدہ قرارداد میں پرتشدد کارروائیوں میں حالیہ اضافے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ متحارب فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مستقل فائر بندی کی پاسداری کریں۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فائر بندی کے لیے لازمی شرائط کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کریں اور فائر بندی کی مؤثر نگرانی کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں۔

قرارداد میں لیبیا کا تنازع حل کرنے کے سلسلے میں افریقی یونین، عرب لیگ اور یورپی یونین کے کردار کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ اس کے برعکس قرارداد کے ابتدائی مسودے میں تنازع کے حل کے سلسلے میں پڑوسی ممالک اور علاقائی تنظیموں کے کردار کی اہمیت تک محدود رہا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں