مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق باعث تشویش ہے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

برطانیہ نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو اسرائیل میں شامل کیے جانے کے امکانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک ریپ نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اگر اسرائیل یک طرفہ طور پر غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل کو شامل کرنے سے امن کے لیے مذاکرات کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔

مسٹر ریپ نے مزید کہا کہ برطانیہ کو ان خبروں پر تشویش ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض مقامات اپنی باقاعدہ خود مختاری میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک یک طرفہ اقدام ہوگا جس کے نتیجے میں امن کی کوششیں بری طرح متاثر ہوں گی۔

گذشتہ منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے طویل امن منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے میں امریکی صدر نے ایک برائے نام فلسطینی ریاست کا تصور پیش کیا ہے مگر فلسطینیوں کے بنیادی مطالبات اور ان کے اصولی حق خود ارادیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے فلسطینی ریاست اور اسرائیل کا مجوزہ نقشہ بھی جاری کیا ہے جو بہ قول ان کے مشرق وسطیٰ کے طویل عرصے سے جاری تنازع کا 'مناسب حل' ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اتوار کے روز غرب اردن کے بعض علاقوں کے اسرائیل سےالحاق پر رائے شماری کرائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں