.

ترکی نے لیبیا میں لڑنے کے لیے 4700 شامیوں کو بھرتی کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے لیبیا میں لڑائی میں شرکت کے لیے بھیجے جانے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 2900 کے قریب ہو چکی ہے۔ ان کے علاوہ 1800 سے زیادہ دیگر اجرتی جنگجو تربیت حاصل کرنے کے لیے ترکی کے عسکری کیمپوں میں پہنچے ہیں۔

المرصد کے مطابق طرابلس میں عسکری کارروائیوں میں مارے جانے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 72 ہو چکی ہے۔

مذکورہ جنگجو طرابلس کے جنوب میں صلاح الدین اور طرابلس ہوائی اڈے کے نزدیک الرملہ کے علاقوں کے علاوہ الہضبہ پروجیکٹ کے مقام پر جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے۔

اسی طرح المرصد نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ ترکی کی جانب سے منتقل کیے جانے والی شامی جنگجؤوں میں سے 64 افراد لیبیا کی سرزمین پر پہنچنے کے بعد یورپ روانہ ہو گئے۔

المرصد نے باور کرایا ہے کہ طرابلس جانے کے خواہش مند شامیوں کے ناموں کے اندراج کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں عفرین اور شام کے شمال مشرقی علاقے میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں ہو رہی ہیں۔

المرصد کے مطابق ایسے وقت میں جب کہ بشار حکومت کی فورسز روس کی سپورٹ سے حلب اور ادلب میں فوجی کارروائیاں کر رہی ہیں ،،، شامی اجرتی جنگجوؤں کی لیبیا منتقلی نے "بڑے پیمانے پر عوام کا غصہ اور ناراضی" بھڑکا دی ہے۔

دوسری جانب لیبیا کی قومی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے تصدیق کی ہے کہ ان کی نیشنل آرمی مشترکہ عسکری کمیٹی (5+5) کی بات چیت میں شرکت کرے گی۔ خیال ہے کہ یہ بات چیت جنیوا میں ہو گی۔ یہ بات خلیفہ حفتر کی لییبا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ اور ان کی نائب اسٹیفنی ولیمز کے ساتھ ملاقات میں سامنے آئی۔ لیبیا کے شہر الرجمہ میں ہونے والی اس ملاقات میں سیاسی بحران اور لیبیا کی اقتصادی صورت حال کو درپیش مسائل کے حل کے طریقوں پر تبادلہ خیال ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں