.

جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے لیبیا کی پارلیمنٹ کی مشروط آمادگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی پارلیمںٹ نے مشروط طور پر جنیوا بات چیت میں شرکت پر آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم وفاق کی حکومت نے مذاکرات سے قبل فوج کے انخلا کی شرط رکھ دی ہے۔ لیبیا کی وفاق حکومت کے ایک ذمے دار اور رکن پارلیمنٹ حمودہ سیّالہ کا کہنا ہے کہ فوج کے انخلا سے قبل جنیوا کانفرنس میں شرکت نہیں ہو گی۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی غسان سلامہ کی سرپرستی میں جنیوا میں مذاکرات سے متعلق لیبی کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوئے۔ ادھر لیبیا کی پارلیمنٹ نے منگل کے روز اپنے اجلاس میں متعدد شرائط کا فیصلہ کیا جن کو جنیوا ملاقات میں شرکت کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مطابق جنیوا بات چیت کے لیے نمائندوں کا چُناؤ پارلیمںٹ خود کرے گی۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بات چیت سے متعلق کمیٹیوں کی ذمے داریوں کا واضح طور پر تعین کیا جائے اور اس حوالے سے ٹائم فریم اور میکانزم بھی طے کیا جائے۔

علاوہ ازیں لیبیا کی پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی جانب سے منظوری کے بغیر کسی بھی حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے اور اس کے نمائندوں کی تعداد کو مشاورتی کونسل کی تعداد کے برابر نہ کیا جائے۔

پارلیمنٹ کا یہ موقف اقوام متحدہ کے ایلچی غسان سلامہ کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔ سلامہ کا کہنا تھا کہ متحارب فریقین کے درمیان مذاکرات کے آغاز کا حقیقی ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا میں بات چیت کرنے کا مقصد لیبیا میں مستقل فائر بندی کو یقینی بنانا ہے۔

جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں سلامہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے سلامتی کونسل سے ایک قرار داد کے اجرا کا مطالبہ کیا ہے۔ اس قرارداد کا مقصد لیبیا پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کی تجدید اور اس پابندی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی منظوری ہے۔